Just Bliss

Posts Tagged ‘life

fall-nature-animated-gif-20

The death itself brought news of life for me

I’m a vanishing lamp, death is infinity for me

No one pleased me and brought joy in my life

Why weep now, when I no longer breathe life

I’m curbed to a corner engulfed in my distress

Almighty nurtures me in my bliss and distress

O the pious worshiper! Garden of Eden for you

Hence being a sinner; woe of hell for me though

I would lighten as a candle if flourished brightly

But the ambiance wasn’t in my support actually

Every heart and soul wishes for the same for me

If the mortal turns to dust, it’ll be infinity for me

Mortal has magnetic charm towards dust Anis

Karbala is for me! I’ve to bear it with endurance

…………………………….

ḳhud naved-e-zindagī laa.ī qazā mere liye

sham-e-kushta huuñ fanā meñ hai baqā mere liye

zindagī meñ to na ik dam ḳhush kiyā hañs bol kar

aaj kyuuñ rote haiñ mere āshnā mere liye

kunj-e-uzlat meñ misāl-e-āsiyā huuñ gosha-gīr

rizq pahuñchātā hai ghar baiThe ḳhudā mere liye

tū sarāpā ajr ai zāhid maiñ sar-tā-pā gunāh

bāġh-e-jannat terī ḳhātir karbalā mere liye

naam raushan kar k kyūñkar bujh na jaatā misl-e-sham.a

nā-muvāfiq thī zamāne kī havā mere liye

har nafas ā.īna-e-dil se ye aatī hai sadā

ḳhaak tū ho jā to hāsil ho jilā mere liye

ḳhaak se hai ḳhaak ko ulfat taḌaptā huuñ ‘anīs’

karbalā ke vāste maiñ karbalā mere liye

Advertisements

19225143_10154588267416932_8043357261204906411_n

کوئی غالباً30برس پہلے کی بات ہے ۔ میں ایک نجی اسکول میں پرنسپل کے عہدے پر کام کررہی تھی۔
ان دنوں امریکہ کے ویزے کی خبر بہت گر م تھی۔مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ حصول کا طریقہ کیا ہوتاہے ۔ ایدمنسٹریٹر صاحب اور اکاؤنٹنٹ بہت ذکر کرتے تھے ۔ایک دن میں نے بھی پوچھ لیا کہ آخر یہ ویزے کا چکر ہے کیا۔
دونوں نے مجھے کسی گنتی میں شمار نہ کرتے ہوئے بات بدل دی ۔ میں خاموش تو ہوگئی مگر ساتھ ہی شاکی اور دکھی بھی ۔ غریب ہیں تو کیا اسی دنیا کے باسی ہیں ۔ میں نے اِدھر اُدھر سے پتہ کیا تو معلوم ہوا لوگ ایک ایک ہفتے سے فرئیر ہال کے باغ میں اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں کہ کب موقع ملے اور وہ انٹرویو کے لئے اند رجاسکیں ۔
ہم نے بھی تصویر کھنچوائی،فارم بھرا اور صبح سویرے امریکن ایمبیسی پہنچ گئی۔ جب میری باری آئی تو پرس کی چیکنگ ہوئی۔ پرس میں سے لپ اسٹک ،چابیاں ،ٹافیاں ،ریز گاری نکل کر فرش پر پھیل گئیں ۔عملے نے غنیمت جانا کہ خود ہی اٹھا کر دے دیں که کچھ مزید نایاب اشیاء فرش پر نہ پھیل جائیں ۔ بہرحال ہم تلاشی کے بعد ایک بہت بڑے ہال میں پہنچے ۔ بیٹھنے کے بعد جو نظر اٹھائی تو ایک سے ایک اسمارٹ اسٹائلش خواتین تھیں جو باری کی منتظر اس یقین کے ساتھ بیٹھی تھیں کہ نہ صرف ویزہ ان کو مل جائے گا بلکہ شاید وہیں سے وہ ائرپورٹ جائیں گی اور سیدھی امریکہ کی زمین پر ہی قدم رنجہ فرمائیں گی ۔قیمتی زیورات ہیروں کی انگوٹھیاں یعنی بس کیا کہوں کچھ کہا نہیں جائے ۔حضرات کا عالم یہ تھاکہ قیمتی بریف کیس قیمتی لباس میں ملبوس ہم جیسے لوگوں کو نگاہِ غلط ڈال کر منہ پھیر لیتے ۔
ہال کے آخر میں تین کھڑکیاں تھیں جن میں 3افراد بیٹھے تھے جو انٹرویو کررہے تھے ۔اکثر خواتین وحضرات ڈھیروں ڈاکومنٹس اور ٹیڑھے منہ سے انگریزی بولنے کے باوجود ناکام آرہے تھے ۔
ہم نے کھڑکی کے پیچھے 3مختلف چہروں کو دیکھ کر دل میں سوچا کہ اے مالکِ دوجہاں تو کتنے چہروں اور شکلوں میں جلوہ گر ہے ۔مجھے کس شکل میں ملے گا! سوچ ہی رہی تھی کہ نام پکاراگیا۔نہ میرا کوئی بینک بیلنس تھا نہ جائیداد نہ قیمتی لباس نہ اسٹائل۔ بس یہ سوچتی ہوئی کھڑکی پر گئی کہ انسان کی کیا مجال اگر اللہ نے دینا ہے تو دے دے گا ورنہ ہم تو اپنے آپ میں خو ش ہیں ۔دوچار سوالوں کے بعد ہی کہا گیا کہ شام کو پاسپورٹ لے لینا۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ شام کو پاسپورٹ لینے میں کیا حکمت ہے ۔ بہت سے لوگوں کو اسی وقت مل گئے تھے ۔ خیر جی ،شام کو جو پاسپورٹ ملا تو اس میں ملٹی پل ویزہ لگا ہوا تھا جو رب کی مرضی۔
اسکو ل میں جب بتایا تو کوئی یقین نہ کرے کہ کیسے مل گیا! تو بھئی جو اس کی مرضی۔جانا تو تھا نہیں بس شوق اور چیلنج سمجھ کر کوشش کی اور حاصل کیا۔ یہ ضرور ہوا کہ لوگوں میں عزت سے دیکھنے جانے لگے کہ امریکہ کا ملٹپل ویزہ کے مالک تھے ۔ کافی برس گزرگئے اور کوئی خیال نہ آیا۔ مگر بھتیجے اکثر جب بھی فون کرتے توکہتے ایک دفعہ توآجائیں ۔ بیٹی کی شادی ہوچکی تھی، بیٹے کی بھی شادی ہوچکی تھی۔ چھوٹی بیٹی یونیورسٹی میں تھی۔ وہ جانتی تھی میں اس کی وجہ سے نہیں جاتی مگر خواہش بہت ہے ۔ لہذا اس نے ہمت دلائی کہ وہ اب بڑی اور سمجھ دار ہوگئی ہے میں اطمینان سے جاؤں۔
سو ہم نے ایک دفعہ پهر فارم بھرا۔ 1999 میں Fedex سے فارم اسلام آباد جاتے تھے ۔ تقریباً دس دن بعد انٹرویو کی تاریخ مل گئی۔ ہم اسلام آباد گئے ۔ اس دفع سوچا اسلام آباد میں انٹرویو ہے ، چلو ساڑھی پہن کر انٹرویو دیں گے ۔ رات کو تیار ی کرکے رکھ دی۔ صبح جب پہنا تو بلاؤز کی زپ ٹوٹ گئی ۔لوبھئ بهرم کا وہیں دم نکل گیا۔ رات کو جوکپڑے دهو کر لٹکائے تهے وہی الگنی سے اتار کر بغیر استری کے سلوٹوں والے پہن کر چلے گئے ۔ پیسہ جائیداد یا دستاویز تو کبھی همارے پاس ہوتی نہیں کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ اگر اللہ کو منظور هو تو ویزہ بغیر کسی حُجّت کے مل جائے گا۔ وہی ہوا۔۔ پانچ سال کا ملٹی پل ویزہ مل گیا۔ نہ سوال نہ جواب نہ حیرت نہ غیرت۔ اس دفعہ ہم واقعی امریکہ دیکھنے کیا اپنے بھتیجوں ،رشتہ داروں اور پیاری بھابھی سے ملنے چلے گئے ۔خرچہ بھی بھتیجے نے اٹھایا۔اللہ اسکو سب کے ساتھ سلامت رکھے ۔
\
پھر کچھ سال بعد دوبارہ شوق ہوا کہ چلو اس دفعہ بچوں کے ساتھ کوشش کرتے ہیں ۔ یقین کریں پانچ سال کا ملٹی پل ویزہ مل گیا مجھے اور بچو ں کو۔ مگر ایک ہفتے بعد ہی 9/11 کا واقعہ ہوگیا تو ہم نے کبھی نہ جانے کے ارادے سے توبہ کرلی ۔ جہاں اپنی عزت ہی نہیں تو کیوں جائیں ایسے ۔

میری ایک دوست نے کہا کہ تمہیں آرام سے ویزہ مل جاتا ہے اور مجھے کبھی نہیں ملتا۔میرے ساتھ چلو تمہیں بھی مل جائے گا اور مجھے بھی شاید مل جائے ۔ اس ملک میں اس کا شوہر گیا ہوا تھا نہ وہ آتا تھا اپنی کاروباری مصروفیت کی وجہ سے نہ اِس کو ویزہ ملتا تھا۔ خیر جی ہم بینک بیلنس شیٹ لے کر پہنچ گئے ۔ جب کھڑکی کے اس طرف بیٹھے ہوئے افسر نے میری بیلنس شیٹ دیکھی تو محو حیرت سے کبھی مجھے دیکھے کبھی شیٹ کو۔ آخر میں نے پوچھا: ’’کیا ہواآفیسر؟‘‘تو وہ بولا: ’’یہ بتاؤ،تمہار ی بیلنس شیٹ میں صرف= Rs1200/نظر آرہے ہیں ۔میں کیسے ویزہ دے سکتاہوں ؟‘‘پھر اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں ۔ٹیچر کی عزت ہر جگہ ہوتی ہے وہ بھی بہت مہذب لہجے میں بات کررہا تھا۔تھوڑی دیر بعدپھر اس نے کہاRs1200/=۔دیکھو یہ صرف Rs1200/=۔مجھے غصہ آگیا۔ میں نے کہا:’’آفیسر ،میری توہین نہیں کرو۔ تم نے بیلنس شیٹ مانگی تھی وہ دکھادی ۔میں بھی جانتی ہوں کہ کہیں بھی جانے کے لئے رقم درکار ہوتی ہے ۔میرے وسائل ہیں تو آئی ہو ں نا۔ ویزہ دیناہے تو ورنہ میری توہین نہیں کرو‘‘۔ معذرت کے بعد اگلے دن پھر بلایا۔میں پھر چلی گئی۔ میری دوست کو پہلے دن ہی انکار ہوگیا تھا۔ اگلے دن پھر اِدھر اُدھر کی باتیں کرتارہا۔۔ بولا:’’آج تک میں نے اتنا ٹائم کسی کو نہیں دیا یا ویزہ دے دیتاہوں یا انکار ہوجاتا ہے ۔اب تم بتاؤ میں کیا کروں !میری نوکری جائے گی اگر = Rs1200/پر ویزہ دیا‘‘۔ میں نے کہا،’’اچھا بتاؤ،میں کیا کروں ؟‘‘۔بولا :’’مجھے رقم لاکر دکھادو‘‘۔میں نے کہا:’’ٹھیک ہے ‘‘۔اگلے دن میرے رشتے دار ہیں ، وہ $4000 لے کر میرے ساتھ گئے ۔ دیکھ کر ہنسنے لگا۔بولا؛’’کہاں چھپا کر رکھے تھے؟‘‘
میں نے کہا ” یه تمهارا مسله نهیں هے که کہاں رکهے تهے ، تم نے کہا لا کر دکهاؤ تو دیکھ لو گِن بهی لو ”
پهر هنستے هوئے اس نے ویزہ دے دیا۔ مجھے تو جانا ہی نہیں تھا شوق پورا ہوگیا۔ کافی عرصے تک اس آفیسر سے ای میل پر رابطہ رہا۔ اچھا انسان تھا۔جہاں بھی ہو، خوش رہے ،آمین.
میں نے اپنی زندگی اس گانے جیسی گزاری هے –

~ میں زندگی کا ساتھ نبهاتا چلا گیا
هر فکر کو دهوئیں میں اڑاتا چلا گیا
بربادیوں کا سوگ منانا فضول تها
بربادیوں کا جشن مناتا چلا گیا
هر فکر کو دهوئیں میں اڑاتا چلا گیا
جو مل گیا اسی کو مقدر سمجھ لیا
جو کهو گیا میں اس کو بهلاتا چلا گیا
هر فکر کو دهوئیں میں اڑاتا چلا گیا
غم اور خوشی میں فرق نه محسوس هوں جہاں
میں دل کو اس مقام په لاتا چلا گیا
هر فکر کو دهوئیں میں اڑاتا چلا گیا

19203123-english-teacher-sitting-at-the-table-and-smiling-to-the-camera

The Seasons come and the seasons go

But the Season of memories never goes

It has undying settled deep in my heart

I remember I read it somewhere in a book

When you see new faces reflect in old faces

Old memories move with new full of life faces

I believe you are also one of those lost faces

Memory of fine old days, rising as new face

It‘s closer to me now; fading memories!

You know the fine days we spent together

It makes me sad to think of departing you

So keep myself engaged just to forget you

I write poetry and lyrics to keep occupied

I restrain to read, write and lost in books

Thy recollections sting me more in loneliness

And thy remembrance liven up in loneliness

Fragrance of beautiful memories relish me

The fragrance engulfs the ambiance and me

And I continue my life’s journey swiftly ——–

…………………………………………………..

یاد کہانی
موسم آتے جاتے ہیں
مگر یاد کا موسم نہیں گزرتا
عین دِل کے اوپر کہیں ٹھہر جاتا ہے
میں نے کسی کتاب میں پڑھا تھا
جب پُرانی شکلیں نئی شکلوں میں نظر آنے لگیں
تو پرانی یادیں نئے جیون کے ساتھ سفر کرنے لگتی ہیں
مجھے لگتا ہے شاید تم بھی
ایسی ہی کسی یاد کا چہرہ ہوا
سانولی یاد کا
جو میرے قریب آگیا ہے
کہ پرانی یادیں مٹنے لگی ہیں
تم سے جدائی کا موسم مجھے اُداس کرنے لگا ہے
تمہیں معلوم ہے
تمہارے ساتھ بیتے دِن بھلانے کے لیے
میں خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کرتی ہوں
نظمیں لکھتی ہوں، شعر کہتی ہوں اور
کتابوں میں اپنا آپ گم کر لیتی ہوں
مگر دل پر ایسی تنہائی گزرتی ہے کہ
یاد کی اگر بتیاں آپ ہی آپ
سُلگ اٹھتی ہیں
جن کی خوشبو میرے چاروں اور پھیل جاتی ہے
دُور دُور تک
اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی
اِس دھیمی سی خوشبو کے ساتھ
سفر کرنے لگتی ہوں !!
نجمہ منصور

 

die-bibel-samson-delilah-teil-2-samson-delilah-ii-elizabeth-hurley-D23GRX

If death is my fate and destiny

Then why flee from the set destiny

Why to get indulged in bustle of life

To overlook death and set destiny

Why to share the griefs and reliefs

With new or friends of times in relief

Why not relax at home in solitude

laugh crazily and wait for destiny

munir25

mountain-wallpaper-1920x1080-1011103

Life’s like gleaming moonlight in desert
Floating clouds on mountain peaks is life
Water flowing in the lagoons is vigor of life
Life is water’s itch in storm, dust and desert
Life is like dancing in pouring down rain
For Majnu life’s impulsive spellbound love
For Leila life means only Majnu’s ardent love
Life’s curb and thirst in the midst of desert
Life is suffocating and vague in gloomy night
Love, fervor, shovel and rock is Farhad’s nerve
Allure loveliness and luster is Sherin’s verve
Life’s poisonous sting for helpless lovely Heer
Spellbound tune is Ranjha’s haven and fervor
Life is engulfed in philosophical sphere
We’re adhered in life’s whirlpool sphere
Life is a game of meeting and parting away
Life is to earn be alive and then strive away
My life is thy fragrant rite at dusk and dawn
The Life is morning glory of the sun at dawn
Life is the beam of hope in the sheer darkness
Life is trust and assurance in day’s brightness
Life moves swiftly from morning to evening
Counting stars in beloved’s glamour in evening
Life is simply ambition in murky helplessness
Love and only love is eternal power of life
Life is oxygen for the fading breaths of life
Life is blooming fragrant essence of verve
I’m the life-force of blooming glowing verve
Life is simply the splendor of you and me

……………………………………….

زندگی
[ایک نظم]
زندگی صحرا میں رخشاں چاندنی کا نام ہے
کو ہ پر بادل ندی میں پانیوں کا نام ہے
زندگی طوفان ‘خاک اور دشت میں پانی کی چاہ
بارشوں میں رقص کرتی زندگی کا نام ہے
زندگی ہے قیس کی آنکھوں میں وحشت اور جذب
زندگی لیلی کے جسم و جاں میں مجنوں نام ہے
وسط صحرا پیاس اور اک حوصلہ ہے زندگی
زندگی شام غریباں میں دھو ئیں کا نام ہے
زندگی فرہاد کا تیشہ ‘جنُوں اور سنگ کوہ
زندگی شیریں کے حُسن بےبہا کا نام ہے
زندگی ہے ہیر کی بیچارگی اور زہر عشق
بانسری کی دُھن پہ رانجھا کی لگن کا نام ہے
اک وجودی فلسفے کے دائرے میں زندگی
اور محور میں ہیں ہم جس زندگی کا نام ہے
زندگی ہجر و فراق و وصل کے ہیں مرحلے
زندگی نان جویں کی جُستجو کا نام ہے
زندگی اک مشکبُو شام و سحر ہے تیری یاد
زندگی ہوتی طلوع صبح نو کا نام ہے
زندگی تاریکی شب میں بقائے زندگی
زندگی روشن سے دن میں زندگی کا نام ہے
صبح کرنا شام کا ہے زندگی کا یک روپ
رات میں اختر شماری زندگی کا نام ہے
زندگی لاچارگی میں رنگ عزم زندگی
عشق قائم عشق دائم زندگی کا نام ہے
زندگی ہے آکسیجن جاں بلب سانسوں کے نام

 

6951957-girl-looking-out-the-window

Getting up, I opened the window

And I see———

The astray lanes of the universe

A bright day dropped from a donor’s

Pocket in the bowl of the earth

Is now a low-spirited day of my life

But it is after all now my life

Its slowest day of my earthly life

A child’s ‘Lucky Draw” echo in the lane

Breeches silence of tedium far and wide

This day is my day——yeah it’s my day

Only if I make it or break it, it’s my day

ں:
’’میں اْٹھ کے کھڑکی کھولتا ہوں
اوردیکھتا ہوں
کائنات کی گلی گلی بھٹک رہی
زمین کے کاسۂ گدائی میں
کسی سخی کی جیب سے
گرا ہوا چمکتا دن
جواَب مری بجھی بجھی سی
زندگی بھی ہے
یہ میری عمرِمختصرکا اک طویل دن
گلی میں ایک ’’طفلِ لاٹری فروش‘‘ کی صدا
قریب و دور کی
تھکی تھکی خموشیوں کو
چیرتی ہے ’’یا نصیب! یا نصیب!‘‘
ہاں یہ دن مرا نصیب ہے
اگر میں داؤ پر لگا سکوں

 

 

Image result for images of a girl sadly smiling

Why have you been constantly smiling?

What’s the despair that you are veiling?

Having wet eyes and a smile on your face

What’s fact that you’re showing on face?

The tears you sustain now with such patience

Will turn into venom if bear so much patience

Time has healed your wounds with resilience

Why are you scratching those with touchiness?

Destiny is the game of unreliable phase of life

You’re being beaten by the passing time of life
………………………
tum itnā jo muskurā rahe ho

kyā ġham hai jis ko chhupā rahe ho

āñkhoñ meñ namī hañsī laboñ par

kyā haal hai kyā dikhā rahe ho

ban jā.eñge zahr piite piite

ye ashk jo piite jā rahe ho

jin zaḳhmoñ ko vaqt bhar chalā hai

tum kyuuñ unheñ chheḌe jā rahe ho

rekhāoñ kā khel hai muqaddar

rekhāoñ se maat khā rahe ho


Enter your email address to follow this blog and receive notifications of new posts by email.

Join 907 other followers

Archives

Archives

October 2017
M T W T F S S
« Sep    
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031  

Shine On Award

Dragon’s Loyalty Award

Candle Lighter Award

Versatile Blogger Award

Awesome Blog Content Award

Inner Peace Award

Inner Peace Award

Inner Peace Award

Flag Counter

Flag Counter

It looks like the WordPress site URL is incorrectly configured. Please check it in your widget settings.

Bliss

blessings for all

Upcoming Events

No upcoming events