Just Bliss

Thank you so much  Chriti Moise  for nominating me for the Shine on award

These are rules to follow for this award :

1.) Show appreciation of the blogger who nominated you and link back to them in your post.
DONE !
2.) Add the award logo to your blog.
DONE !
3.) Share 7 things about yourself.
A few things about me you’ll find if you visit this blog or you can try here:)

4.) Nominate 5 – 10 or so bloggers you admire.

Seven things about me

 

 

 

Thank you Ajaytao for nominating me for the award

Seven thing about me

 

70 سال کے جوان توجہ فرمائیں !

کچھ مہینوں سے میں ایک تبدیلی محسوس کر رہی تھی اب

کافی تجربہ ہوچکا ہے اس لئے سوچا کہ سب کو بتا دوں ۔

یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ اس کرہ عرض پر ہم اپنے باوا

آدم اور اماں حوا کی بھول

چوک کی وجہ سے یہاں قید کاٹ رہے ہیں جب تک کہ رہائ

کا پروانہ آے۔ تو جیسے دنیا میں بنائ گئ مجرموں کی

جیل سے رہائ کے وقت قیدی کو جیل میں اسکا جمع شدہ

سامان واپس کر دیا جاتا ہے اور جیل سے ملا ہوا سامان 

بھی ایک ایک کر کے جیل میں دوبارہ جمع کرا دیا جاتا ہے۔

ہمارے ساتھ بھی بالکل ایسا ہی ہوتا ہے نا۔ وقت کے ساتھ

طاقت، جوانی خوبصورتی، وجاہت دھیرے دھیرے کم ہوتی

جاتی ہے۔ بال گرنا دانت، نظر ، یاد داشت، اعصاب غرض

کہ سر سے پاوں تک سب چیزوں کی واپسی شروع ہوجاتی

ہے۔ اور تو اور ہماری انگلیوں کے پوروں کی لکیریں تک

غائب ہونا شروع ہوگئ ہیں ۔ پبشن لینے کے لئے زندہ ہونا

ضروری ہے اور زندہ ہونے کا ثبوت دینا بھی ضروری۔ بنک

والے بیچارے ہمارے انگوٹھے اور انگلیوں کے نشانات لینے

کے لئے ہر طرح انکو دبا دبا کر کوشش کرتے ہیں مگر جب

انکی کوشش اور ہمت جواب دینے لگتی ہے تو شائد کچھ

بات بن جاتی ہوگی یا دستخط لیکر وہ اپنی اور ہماری جان

چھوڑتے ہیں ۔یعنی سب سامان واپس ہوگا صرف اعمال

ساتھ جائیں گے ۔ ٹائپ کرتے ہوے اکثر ہندسے، حروف غائب

ہوجاتے ہیں یا ادھر ادھر ہوجاتے ہیں ۔ اپنا لکھا ہوا خود

پڑھو تو کچھ کا کچھ نظر آتا ہے۔ یہ میں اپنا تجربہ بتا رہی

ہوں ۔ ضروری نہیں کہ سب کے ساتھ ایسا ہوتا ہو اس لئے

مجھے بڑا بھلا کہنے سے اجتناب کیا جائے ورنہ۔۔۔۔ 

ورنہ میں کچھ نہیں کرسکتی جناب!

اللہ پاک راضی ہوجائے۔ اعمال، عبادت، استقامت تو ہے نہیں

بس صرف کوتاہیاں نافرمانیاں اور ان گنت گناہوں کا ہی

سڑا بھسا ڈھیر ہے۔اب تو رب سے بس معافی کی التجا ہے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ

جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةًؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُۚ-وَ هُوَ الْعَلِیْمُ

الْقَدِیْرُ(۵۴)

ترجمہ: کنزالایمان

اللہ ہے جس نے تمہیں ابتدا میں کمزور بنایا پھر تمہیں

ناتوانی سے طاقت بخشی پھر قوت کے بعد کمزوری اور

بڑھاپا دیا بناتا ہے جو چاہے اور وہی علم و قدرت والا ہے

گولی اور گالی ۔۔۔

 دونوں کتنی ملتی جلتی ہیں دونوں زہر قاتل ہیں آئیے دیکھتے ہیں کیسے

 گالی کے رشتہ دار اور سہولت کار بھی ہیں جو گالی میں نفرت کا جذبہ ، جوش و جنوں، طنز، تضھیک، قہر آلود نظریں، چہرے اور ہاتھوں کے مختلف

مخالف کو جنونی بنا سکتے ہیں ، گالی کے اثر کو تیز کرنے میں کچھ جانوروں کے نام بھی شامل ہیں جو ہر زبان کی گالیوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ گالیاں دینے

والے کا لہجہ جسمانی حرکات اور دہاڑتی آواز متاثرہ شخص کو دل کے دورے میں مبتلا کرسکتے ہیں ۔ جبکہ مستقل متواتر استمال جان لیوا بھی ہوسکتا ہے

یہ ایسا اقدام قتل ہوتا ہے جسکی چوٹ کا نہ نشان ہوتا ہے نہ آلہ قتل۔ آج ہماری پوری قوم اسی قبیح حرکت کا شکار ہے۔ گولی کی قسمیں بھی ہیں۔ عقلی اور اخلاقی

طور پر ہر عمر ، رشتے ، نیز کسی بھی منصب پر فائز افراد بے دریغ گولی کا بے خوف اور ڈھٹائ سے استمعال کر تے ہیں ۔ ایک قسم گولی باز کہلاتی ہے۔

یعنی بہانہ بنانا، جھوٹے وعدے کرنا، وقت کی پابندی سے فخریہ بے نیاز ہونا۔ بد گمانی پیدا کرنا، جھوٹی قسمیں کھانا۔ گولی کی مزید قسم گولی مارنے والے میں

جسارت ، بے رحمی ،اور حرام کمائ کی بے شرمی، بے حسی بے غیرتی ، ظلم، کے خمار سے بھرپور ہوتی ہے۔ قانون کیونکہ اندھا ہے اور انصاف نا پید اس

لئے ان کو کسی کے باپ کا ڈر نہیں ہوتا۔ موت اور اللہ کا ڈر بھی پیسے کی طاقت سے اندھا بہرا کر دیتا ہے۔ صُمٌّۢ بُكۡمٌ عُمۡىٌ فَهُمۡ لَا يَرۡجِعُوۡنَ ۙ‏ ﴿2:18﴾ گولی

تیسری قسم نہایت اعلئ ہے۔ جانباز مجاہد اپنے ملک، قوم کی حفاظت ، شجاعت جاںفشانی سے 24 گھنٹے سرحدوں پر، مورچوں میں کرتے ہیں تو پوری قوم رات

کو پرسکون سوتی ہے۔ اپنے گھر بار ، خاندان کو حبالوطنی کے جزبے سے سرشار ہوکر اپنی جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے بلاآخر شہادت کا درجہ پاتے

ہیں۔ بقول علامہ محمد اقبال شاعر مشرق : افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا 

Words illumined as the book opened

They lighted up my gloomy room

Flowers of emotions blossomed

My feelings lighted up with delight

Bygone delightful moments enliven

 A fragrance engulfed me and

 Memories cherished and uplifted my life

Your scattered letters spread all over

Brightened the gloomy room like stars

Those lost moments, the days we spent

Engrossed in oblivion and an oasis of dreams

The foggy attire mountains, misty abodes

Holding thy hand, walking in daylight

 In dense jungles or on concrete roads;

Are you disagreeing or riled on petty issues

Then adding sugar to tea and chuckling

Raising her beautiful eyes and smiling

Said; It makes the tea bitter if little sugar

 And with more, it is no more tea

To see her heated and joyful

Steam and aroma from the cup of hot tea

The twinkling dancing stars all around

Enhancing cordial ambiance gripping

Depressing wet eyes, dying evening lamps

 Heartbreaking to let pass those moments

My heart is sinking like that of sundowning

The opened old book carried me away from my past

نظم

کهلی کتاب تو لفظوں کی روشنی پهیلی
مرے اداس سے کمرے میں
پهول کهل اٹهے
چراغ جاں میں بهی
لو نے بهڑک کے ساته دیا
ہزار گزرے وہ لمحے
کہ جیسے جاگ اٹهے
مہک بهی جانفزا
سانسوں کو کر گئی گلشن
ترے خطوط جو بکهرے
ہوئے تهے چاروں طرف
ستارے بن کے
سیاہ رات میں چمک اٹهے
وہ بیتے لمحے
وہ دن رات
قصہ ہائے دور دراز
دور گمنام جزیروں کے سفر
دهند میں ڈوبے شهر
کہر میں لپٹے کہسار
دهوپ روشن میں اندهیرے جنگل
اجلی سڑکوں پہ
ترا ہاته پکڑ کے چلنا
روٹه کے چهوٹی سی باتوں پہ
ترا وہ لڑنا
چائے میں ڈال کے چینی کے بہانے
پهر سے
مسکراتے ہوئے
آنکهوں کو اٹها کے کہنا
“چائے میں چینی اگر کم ہو تو تلخی زیادہ
اور ہوجائے بہت میٹهی تو چائے نہ رہی”
روٹهنا روٹه کے من جانا
تها کتنا شیریں
گرم چائے کی پیالی سے
وہ اٹهتی ہوئی بهاپ
رقص کرتے ہوئے
مخمور ستارے ہر سو
ڈولتے ‘جهومتے
آنکهوں میں مناظر کیسے
بهیگتی آنکهیں
بهڑکتے ہوئے محفل کے چراغ
دل لگا شام ہوئے ڈوبتا سورج جیسے
کیا کهلی عہد گزشتہ کی کتاب
انور زاہدی

 

Utter Hastiness!

Perception of the universe

I’m aware of,

Images surface on the time tides

fatality is their destiny;

There’s no today and day after

The span of life is simply an instant

Countless metaphors rise to scatter

The loneliness of this symbol of infinity

Not only emergence to remain

Utter hastiness  wins through here

each day the photo change in the tavern

spirit doesn’t even breathe life’s sip

The death angel wipes out life’s sip

What an eerie hastiness, every instant

gulp down the other instant

Dust and water blended  to shape things

If the creation is to perish their, destiny

O, The Creator!

Don’t you loathe to see

 Your creation perish into dust!

The dance saga
I was;
crucified in gala nights of the east
was celebrated in bars of the west
was sold out in the name of dignity
paid my pride in the name of dignity;
In the marketplace, I’m of no rate now
neither get any share if yet sold now
I’m like an object of ardent need
Keep to use when the beloved need
Shape of my body sketched and drawn
My dream version is linkage of dreams
Put up for sale from one buyer to other
Fostering in trash pool of waste garbage
My death loop of dance saga spinning
Sans budding, sans desires, gloom spinning

Poet: Tasnim Abdi

‪with names images of gems‬‏ کیلئے تصویری نتیجہ

Friend! It’s like this
Stones have their own sphere
They’re valued with atomic numbers
The museum in Washington gallery
There’s a precious stones gallery
There’s a necklace of some queen
A crown of king renowned
Exquisite earrings of a princess
And, valuable chain of a prince
The exquisite collection brilliance
All around the ambiance
The diamond dazzling the eyes
The stunning sapphire grip the eyes
The crimson ruby-like beloved lips
Appealing to be cherished
The green emerald refreshing
The eyes of the beholder
My friend sharing price and atomic number
Of every gemstone placed there
The supremacy illuminates
In radiance of each gemstone
Everywhere in Capital Hill building
Where whispers of nameless workers
Echo on the tall majestic pillars
The great scholar Ali Shariati heard
That thousands of buried slaves
Weeping In the gigantic Pyramids
Unseen, unheard and, unremarked
The naïve tourists see pyramids
In thorough wonder
Yes, my friend!
Same is the story of priceless stones
Slavery has been decided to be sold
Slaves traded even today
Regardless of gain or pain, they’re sold
IMF’s checkbook and cruise missile
The code bearing slaves will
Be marked with atomic numbers

………………

“ہاں دوست ایسا ہی تھا “
پتھروں کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے
ان کے اٹامک نمبر ز سے
ان کی قیمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے
واشنگٹن کے عجائب خانے میں
قیمتی پتھروں کی گیلری ہے

کسی ملکہ کا نیکلس
کسی بادشاہ کا تاج
کسی شہزادی کے آویزے
اور
کسی رئیس زادے کی مالا رکھی ہوئی ہے
جن کی چمک سے سارا ماحول
بقعہ نور بن چکا ہے
ہیرے کی چمک آنکھوں کو چکا چوند کر رہی ہے
نیلم کی نیلاہٹ نظر کو ساکت کر چکی ہے
یاقوت کی سُرخی
محبوب کے سرخ ہونٹوں کی طرح
بوسے کی طرف مائل کر رہی ہے
زمرد کی سر سبزی
دیکھنے والے کو شاداب نظر کر رہی ہے

میرا دوست مجھے
ہر پتھر کی قیمت اور اس کا اٹامک نمبر بتا رہا ہے
پتھروں کی چمک میں تکبرانہ مسکراہٹ ہے

کیپٹل ہل کی عمارت کے ہر گوشے میں
سرگوشیاں گونج رہی ہیں
وہ بلند و بالا ستون
جن پر گمنام غلاموں کے دستخط ہیں
وہی بے زبان نشان گونج رہے ہیں

اسی طرح
میرے عظیم مفکر شریعتی نے
سنا تھا کہ اہرام مصر کی آغوش میں
ہزار ہا مزدور قبروں میں رو رہے ہیں
اور بہرے تماشائی تماشا دیکھ رہے ہیں
ہاں دوست !
تمام بے قیمت پتھروں کی کہانی ایک سی ہے
غلامی کے شعبے کی نجکاری ہوچکی ہے
غلام آج بھی بِک رہے ہیں
تمام سود و زیاں سے عاری غلام بک رہے ہیں
آئی ایم ایف کی چیک بُک
اور کروز میزائل
ان کوڈ بردار جنس کے اٹامک نمبر کو طے کریں گے
………………
. Poet: Tasnim Abidi
Translator: Tanveer Rauf

Poet: Tasnim Abidi
Translated by: Tanveer Rauf

Wealth surpasses soul

The capital surpasses the capitalist

The decline in local currency

Makes a stock market uproar

Though he’s fond of my eyes –but—

He ignores my eyes’ hidden dreams

A Pandora box of universal religions

Faiths and beliefs gush from all sides

And, the man–worthless, just dust

Honesty adorned in showcases

The truth crucified hung on a crossroad

But the priceless gem of justice

Sparkle in a cut off a finger on the road

The finger of no value lies in the mud

Blood dripping from its every pore

Religion, politics, all the same

Love’s lost in the air too, only

The capital outshine the capitalist

Outward show veils the inner malice

Creating words in my lyrics

My intuition has consumed me up

The money surpasses the capitalist

سبقتِ ذات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرمایہ
سرمایہ دار پر سبقت لے گیا ہے

اسی لئے اسٹاک مارکیٹ میں
روپے کی قدر گر جانے پر شور مچ رہا ہے
اسے میری آنکھیں اچھی لگتی ہیں
مگر
ان میں چھپے خوابوں سے وہ نظر بچاتا رہتا ہے
ہر طرف مذاہبِ عالم کے صندوق سے
عقیدوں کے خزانے تقسیم ہورہے ہیں
اور انسان
انسان خاک کی قیمت مل رہا ہے
سچائی کی قیمتی مالا
شو کیس میں سجی ہے
مگر سڑک کے چوراہے پر
کسی سچے کی گردن
اب بھی صلیب پر جھول رہی ہے
اور
انصاف کا ہیرا تو کیسا انمول ہے
وہ سامنے ایک کٹی ہوئی انگلی میں جگمگا رہا ہے
انگلی خاک پر بے قیمت پڑی ہے
اور اس کی پور پور سے خون بہہ رہا ہے
مذہب سیاست،حد یہ ہے کہ
محبت کے بازار میں بھی
سرمایہ ، سرمایہ دار پر سبقت لے گیا ہے
حسنِ ظاہری
باطنی افلاس کو چھپانے میں مگن ہے
سخن پروری کے لئے راتب مہیا کرتے کرتے
میری شاعری بھی مجھ کو نگل رہی ہے
سرمایہ
سرمایہ دار پر سبقت لے گیا ہے

Tasnim Abidi

download

My beloved, don’t ask me for love shared before
I assumed that life’s brilliant as long as you’re there
Thy gloom is there; why bother of the world
Your beauty is the sustenance of splendor of the world
There’s no reality of anything other than your divine eyes
Should you be with me, fate would turn to joy
It occurs not, was my assumption
Countless of sufferings there besides love
Endless of delights there than lover’s reunion
Dark magic effects extended to eras
Draped in silk and velvet and brocade and satin
Vanity and timidity for sale hither and thither
Soaked in the dust and wet in blood hearts
Bodies suffering from diseases and infection
The mucus flowing of ulcers and sore infection
My eyes detain that sight too; what can I do
Thy loveliness is charismatic; but what to do

…………………………………………………………..

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات

تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے

تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات

تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے؟

تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے

یوں نہ تھا، میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم

ریشم و اطلس و کمخاب میں بُنوائے ہوئے

جابجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم

خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے

جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے

پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے

اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں میں محبت کے سوا

راحتیں او ربھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

– فیض احمد فیض

Related image

I can’t defy saying what comes to my lips

But, if I speak truth, chaos is created

It saves temporarily, if I lie, but its deceit

My heart dislikes both truth and deceit

I’m afraid of both, here and hereafter

I can’t defy saying what comes to my lips

Go slowly; darkness moves away bit by bit

Search thy light within yourself bit by bit

Why people search for it outside their spirit

I can’t defy saying what comes to my lips

Whoever is attained with truth from Deity?

He gains knowledge of his soul and his Deity

He is thus the blessed soul of shrine of peace

Once elevated is never broken down to pieces

I can’t defy saying what comes to my lips

To be courteous is the very essential

A norm to which all follow is essential

Deity is in every human being we know

If He is in me; then why not in thou

Sometimes Deity is seen, at times hidden

I can’t defy saying what comes to my lips

When Bullah Shah’s blessing is with me

Without him, there could none else be

His ignoring of me is anguish and pain

My vision’s unable to foresee that pain

I can’t defy saying what comes to my lips

……………….

baba bullah shah

Enter your email address to follow this blog and receive notifications of new posts by email.

Join 919 other subscribers

Archives

Archives

February 2023
M T W T F S S
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
2728  

Shine On Award

Dragon’s Loyalty Award

Candle Lighter Award

Versatile Blogger Award

Awesome Blog Content Award

Inner Peace Award

Inner Peace Award

Inner Peace Award

Flag Counter

Flag Counter

Bliss

blessings for all

Upcoming Events

No upcoming events