Just Bliss

Author Archive

19225143_10154588267416932_8043357261204906411_n

کوئی غالباً30برس پہلے کی بات ہے ۔ میں ایک نجی اسکول میں پرنسپل کے عہدے پر کام کررہی تھی۔
ان دنوں امریکہ کے ویزے کی خبر بہت گر م تھی۔مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ حصول کا طریقہ کیا ہوتاہے ۔ ایدمنسٹریٹر صاحب اور اکاؤنٹنٹ بہت ذکر کرتے تھے ۔ایک دن میں نے بھی پوچھ لیا کہ آخر یہ ویزے کا چکر ہے کیا۔
دونوں نے مجھے کسی گنتی میں شمار نہ کرتے ہوئے بات بدل دی ۔ میں خاموش تو ہوگئی مگر ساتھ ہی شاکی اور دکھی بھی ۔ غریب ہیں تو کیا اسی دنیا کے باسی ہیں ۔ میں نے اِدھر اُدھر سے پتہ کیا تو معلوم ہوا لوگ ایک ایک ہفتے سے فرئیر ہال کے باغ میں اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں کہ کب موقع ملے اور وہ انٹرویو کے لئے اند رجاسکیں ۔
ہم نے بھی تصویر کھنچوائی،فارم بھرا اور صبح سویرے امریکن ایمبیسی پہنچ گئی۔ جب میری باری آئی تو پرس کی چیکنگ ہوئی۔ پرس میں سے لپ اسٹک ،چابیاں ،ٹافیاں ،ریز گاری نکل کر فرش پر پھیل گئیں ۔عملے نے غنیمت جانا کہ خود ہی اٹھا کر دے دیں که کچھ مزید نایاب اشیاء فرش پر نہ پھیل جائیں ۔ بہرحال ہم تلاشی کے بعد ایک بہت بڑے ہال میں پہنچے ۔ بیٹھنے کے بعد جو نظر اٹھائی تو ایک سے ایک اسمارٹ اسٹائلش خواتین تھیں جو باری کی منتظر اس یقین کے ساتھ بیٹھی تھیں کہ نہ صرف ویزہ ان کو مل جائے گا بلکہ شاید وہیں سے وہ ائرپورٹ جائیں گی اور سیدھی امریکہ کی زمین پر ہی قدم رنجہ فرمائیں گی ۔قیمتی زیورات ہیروں کی انگوٹھیاں یعنی بس کیا کہوں کچھ کہا نہیں جائے ۔حضرات کا عالم یہ تھاکہ قیمتی بریف کیس قیمتی لباس میں ملبوس ہم جیسے لوگوں کو نگاہِ غلط ڈال کر منہ پھیر لیتے ۔
ہال کے آخر میں تین کھڑکیاں تھیں جن میں 3افراد بیٹھے تھے جو انٹرویو کررہے تھے ۔اکثر خواتین وحضرات ڈھیروں ڈاکومنٹس اور ٹیڑھے منہ سے انگریزی بولنے کے باوجود ناکام آرہے تھے ۔
ہم نے کھڑکی کے پیچھے 3مختلف چہروں کو دیکھ کر دل میں سوچا کہ اے مالکِ دوجہاں تو کتنے چہروں اور شکلوں میں جلوہ گر ہے ۔مجھے کس شکل میں ملے گا! سوچ ہی رہی تھی کہ نام پکاراگیا۔نہ میرا کوئی بینک بیلنس تھا نہ جائیداد نہ قیمتی لباس نہ اسٹائل۔ بس یہ سوچتی ہوئی کھڑکی پر گئی کہ انسان کی کیا مجال اگر اللہ نے دینا ہے تو دے دے گا ورنہ ہم تو اپنے آپ میں خو ش ہیں ۔دوچار سوالوں کے بعد ہی کہا گیا کہ شام کو پاسپورٹ لے لینا۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ شام کو پاسپورٹ لینے میں کیا حکمت ہے ۔ بہت سے لوگوں کو اسی وقت مل گئے تھے ۔ خیر جی ،شام کو جو پاسپورٹ ملا تو اس میں ملٹی پل ویزہ لگا ہوا تھا جو رب کی مرضی۔
اسکو ل میں جب بتایا تو کوئی یقین نہ کرے کہ کیسے مل گیا! تو بھئی جو اس کی مرضی۔جانا تو تھا نہیں بس شوق اور چیلنج سمجھ کر کوشش کی اور حاصل کیا۔ یہ ضرور ہوا کہ لوگوں میں عزت سے دیکھنے جانے لگے کہ امریکہ کا ملٹپل ویزہ کے مالک تھے ۔ کافی برس گزرگئے اور کوئی خیال نہ آیا۔ مگر بھتیجے اکثر جب بھی فون کرتے توکہتے ایک دفعہ توآجائیں ۔ بیٹی کی شادی ہوچکی تھی، بیٹے کی بھی شادی ہوچکی تھی۔ چھوٹی بیٹی یونیورسٹی میں تھی۔ وہ جانتی تھی میں اس کی وجہ سے نہیں جاتی مگر خواہش بہت ہے ۔ لہذا اس نے ہمت دلائی کہ وہ اب بڑی اور سمجھ دار ہوگئی ہے میں اطمینان سے جاؤں۔
سو ہم نے ایک دفعہ پهر فارم بھرا۔ 1999 میں Fedex سے فارم اسلام آباد جاتے تھے ۔ تقریباً دس دن بعد انٹرویو کی تاریخ مل گئی۔ ہم اسلام آباد گئے ۔ اس دفع سوچا اسلام آباد میں انٹرویو ہے ، چلو ساڑھی پہن کر انٹرویو دیں گے ۔ رات کو تیار ی کرکے رکھ دی۔ صبح جب پہنا تو بلاؤز کی زپ ٹوٹ گئی ۔لوبھئ بهرم کا وہیں دم نکل گیا۔ رات کو جوکپڑے دهو کر لٹکائے تهے وہی الگنی سے اتار کر بغیر استری کے سلوٹوں والے پہن کر چلے گئے ۔ پیسہ جائیداد یا دستاویز تو کبھی همارے پاس ہوتی نہیں کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ اگر اللہ کو منظور هو تو ویزہ بغیر کسی حُجّت کے مل جائے گا۔ وہی ہوا۔۔ پانچ سال کا ملٹی پل ویزہ مل گیا۔ نہ سوال نہ جواب نہ حیرت نہ غیرت۔ اس دفعہ ہم واقعی امریکہ دیکھنے کیا اپنے بھتیجوں ،رشتہ داروں اور پیاری بھابھی سے ملنے چلے گئے ۔خرچہ بھی بھتیجے نے اٹھایا۔اللہ اسکو سب کے ساتھ سلامت رکھے ۔
\
پھر کچھ سال بعد دوبارہ شوق ہوا کہ چلو اس دفعہ بچوں کے ساتھ کوشش کرتے ہیں ۔ یقین کریں پانچ سال کا ملٹی پل ویزہ مل گیا مجھے اور بچو ں کو۔ مگر ایک ہفتے بعد ہی 9/11 کا واقعہ ہوگیا تو ہم نے کبھی نہ جانے کے ارادے سے توبہ کرلی ۔ جہاں اپنی عزت ہی نہیں تو کیوں جائیں ایسے ۔

میری ایک دوست نے کہا کہ تمہیں آرام سے ویزہ مل جاتا ہے اور مجھے کبھی نہیں ملتا۔میرے ساتھ چلو تمہیں بھی مل جائے گا اور مجھے بھی شاید مل جائے ۔ اس ملک میں اس کا شوہر گیا ہوا تھا نہ وہ آتا تھا اپنی کاروباری مصروفیت کی وجہ سے نہ اِس کو ویزہ ملتا تھا۔ خیر جی ہم بینک بیلنس شیٹ لے کر پہنچ گئے ۔ جب کھڑکی کے اس طرف بیٹھے ہوئے افسر نے میری بیلنس شیٹ دیکھی تو محو حیرت سے کبھی مجھے دیکھے کبھی شیٹ کو۔ آخر میں نے پوچھا: ’’کیا ہواآفیسر؟‘‘تو وہ بولا: ’’یہ بتاؤ،تمہار ی بیلنس شیٹ میں صرف= Rs1200/نظر آرہے ہیں ۔میں کیسے ویزہ دے سکتاہوں ؟‘‘پھر اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں ۔ٹیچر کی عزت ہر جگہ ہوتی ہے وہ بھی بہت مہذب لہجے میں بات کررہا تھا۔تھوڑی دیر بعدپھر اس نے کہاRs1200/=۔دیکھو یہ صرف Rs1200/=۔مجھے غصہ آگیا۔ میں نے کہا:’’آفیسر ،میری توہین نہیں کرو۔ تم نے بیلنس شیٹ مانگی تھی وہ دکھادی ۔میں بھی جانتی ہوں کہ کہیں بھی جانے کے لئے رقم درکار ہوتی ہے ۔میرے وسائل ہیں تو آئی ہو ں نا۔ ویزہ دیناہے تو ورنہ میری توہین نہیں کرو‘‘۔ معذرت کے بعد اگلے دن پھر بلایا۔میں پھر چلی گئی۔ میری دوست کو پہلے دن ہی انکار ہوگیا تھا۔ اگلے دن پھر اِدھر اُدھر کی باتیں کرتارہا۔۔ بولا:’’آج تک میں نے اتنا ٹائم کسی کو نہیں دیا یا ویزہ دے دیتاہوں یا انکار ہوجاتا ہے ۔اب تم بتاؤ میں کیا کروں !میری نوکری جائے گی اگر = Rs1200/پر ویزہ دیا‘‘۔ میں نے کہا،’’اچھا بتاؤ،میں کیا کروں ؟‘‘۔بولا :’’مجھے رقم لاکر دکھادو‘‘۔میں نے کہا:’’ٹھیک ہے ‘‘۔اگلے دن میرے رشتے دار ہیں ، وہ $4000 لے کر میرے ساتھ گئے ۔ دیکھ کر ہنسنے لگا۔بولا؛’’کہاں چھپا کر رکھے تھے؟‘‘
میں نے کہا ” یه تمهارا مسله نهیں هے که کہاں رکهے تهے ، تم نے کہا لا کر دکهاؤ تو دیکھ لو گِن بهی لو ”
پهر هنستے هوئے اس نے ویزہ دے دیا۔ مجھے تو جانا ہی نہیں تھا شوق پورا ہوگیا۔ کافی عرصے تک اس آفیسر سے ای میل پر رابطہ رہا۔ اچھا انسان تھا۔جہاں بھی ہو، خوش رہے ،آمین.
میں نے اپنی زندگی اس گانے جیسی گزاری هے –

~ میں زندگی کا ساتھ نبهاتا چلا گیا
هر فکر کو دهوئیں میں اڑاتا چلا گیا
بربادیوں کا سوگ منانا فضول تها
بربادیوں کا جشن مناتا چلا گیا
هر فکر کو دهوئیں میں اڑاتا چلا گیا
جو مل گیا اسی کو مقدر سمجھ لیا
جو کهو گیا میں اس کو بهلاتا چلا گیا
هر فکر کو دهوئیں میں اڑاتا چلا گیا
غم اور خوشی میں فرق نه محسوس هوں جہاں
میں دل کو اس مقام په لاتا چلا گیا
هر فکر کو دهوئیں میں اڑاتا چلا گیا

 

A-couple-in-Wayanad-on-honeymoon-

There’ll be us; you, me and the clouds

Whole jungle be in bop with clouds

Why Night’s union so dark and shaded

Must be her eye mascara; dark shaded

What has made ambiance so fragrant?

Must be her veil, so light and poignant

Beware! Lovers of the blissful love lane

Love path is full of hitch and ditch lane

Worthless to have meeting with Farooq

He’s nothing more than a mad and nutty

 …………

 

hum tum honge badal hoga
raqas meiN sara jungle hoga

va’sal ki sha’b aur itni kali
uu’n aankhooN meiN kajal hoga

kis nay kia mehmaiz hawa ko?
shaied uu’n ka aa’nchal hoga

paiyar ki rah pay chal’nay walo
rasta sara dal’dal hoga

kia milna farooq say logo
hoga koi paghal hoga

 

 

18882196_233973583769487_3741689104712256172_n

 For having pitiful and distressed  soiled face

You’re the only reason for their soiled face

Don’t cry so copiously, don’t get oneself suffer

The more you brood over the more you suffer

Tell me everything how was your life journey

Mine was full of chaos and shadowy journey

We’re village dwellers, unaware of city sense

We do not disguise our faces akin to city sense

The sound must be of a dry withered leaf Bedil

The rattle can’t be of her footsteps in thy patio

                           ………………………………………………………………………………………………

 

BEDIL

ye jo chehroñ pe liye gard-e-alam aate haiñ

ye tumhāre hī pashemān-e-karam aate haiñ

itnā khul kar bhī na ro jism kī bastī ko bachā

bārisheñ kam huuñ to sailāb bhī kam aate haiñ

tū sunā terī masāfat kī kahānī kyā hai

mere raste meñ to har gaam pe ḳham aate haiñ

ḳhol chehroñ pe chaḌhāne nahīñ aate ham ko

gaañv ke log haiñ ham shahr meñ kam aate haiñ

vo to ‘bedil’ koī sūkhā huā pattā hogā

tere āñgan meñ kahāñ un ke qadam aate haiñ

 

 

d9c9468bbdca027c499a3165dc0fddb3

Hats off to the  Character of Late President of India:
Dr. Abul Kalam Azad.

*See what Mr. PM Nair IAS, former Secretary to the late President of India, has to say about Dr. APJ Abdul Kalam.*

DD Podhigai telecast an interview with Mr P M Nair, retired IAS officer, who was the Secretary to Dr Kalam Sir when he was the President. I summarise the points he spoke in a voice choked with emotion. Mr Nair authored a book titled *”Kalam Effect”*

1. Dr Kalam used to receive costly gifts whenever he went abroad as it is customary for many nations to give gifts to the visiting Heads of State. Refusing the gift would become an insult to the nation and an embarrassment for India. So, he received them and on his return, Dr Kalam asked the gifts to be photographed and then catalogued and handed over to the archives. Afterwards, he never even looked at them. He did not take even a pencil from the gifts received when he left Rashtrapathi Bhavan.

2. In 2002, the year Dr Kalam took over, the Ramadan month came in July-August. it was a regular practice for the President to host an iftar party. Dr Kalam asked Mr Nair why he should host a party to people who are already well fed and asked him to find out how much would be the cost. Mr Nair told it would cost around Rs. 22 lakhs. Dr Kalam asked him to donate that amount to a few selected orphanages in the form of food, dresses and blankets. The selection of orphanages was left to a team in Rashtrapathi Bhavan and Dr Kalam had no role in it. After the selection was made, Dr Kalam asked Mr Nair to come inside his room and gave him a cheque for Rs 1 lakh. He said that he was giving some amount from his personal savings and this should not be informed to anyone. Mr Nair was so shocked that he said “Sir, I will go outside and tell everyone . People should know that here is a man who not only donated what he should have spent but he is giving his own money also”. Dr Kalam though he was a devout Muslim did not have Iftar parties in the years in which he was the President.

3. Dr Kalam did not like “Yes Sir” type of people. Once when the Chief Justice of India had come and on some point Dr Kalam expressed his view and asked Mr Nair, “Do you agree?” Mr Nair said “No Sir, I do not agree with you”.

The Chief Justice was shocked and could not believe his ears. It was impossible for a civil servant to disagree with the President and that too so openly. Mr Nair told him that the President would question him afterwards why he disagreed and if the reason was logical 99% he would change his mind.

4. Dr Kalam invited 50 of his relatives to come to Delhi and they all stayed in Rashtrapathi Bhavan. He organised a bus for them to go around the city which was paid for by him. No official car was used. All their stay and food was calculated as per the instructions of Dr Kalam and the bill came to Rs 2 lakhs which he paid. In the history of this country no one has done it.

Now, wait for the climax, Dr Kalam’s elder brother stayed with him in his room for the entire one week as Dr Kalam wanted his brother to stay with him. When they left, Dr Kalam wanted to pay rent for that room also. Imagine the President of a country paying rent for the room in which he is staying. This was any way not agreed to by the staff who thought the honesty was getting too much to handle!!!.

5. When Kalam Sir was to leave Rashtrapathi Bhavan at the end of his tenure, every staff member went and met him and paid their respects. Mr Nair went to him alone as his wife had fractured her leg and was confined to bed. Dr Kalam asked why his wife did not come. He replied that she was in bed due to an accident. Next day, Mr.Nair saw lot of policemen around his house and asked what had happened. They said that the President of India was coming to visit him in his house. He came and met his wife and chatted for some time. Mr Nair says that no president of any country would visit a civil servant’s house and that too on such a simple pretext.

I thought I should give the details as many of you may not have seen the telecast and so it may be useful.

The younger brother of AJP Abdul Kalam runs an umbrella repairing shop. When Mr. Nair met him during Kalam’s funeral, he touched his feet, in token of respect for both Mr. Nair and Brother.

 

 

 

 

 

 

 

 

 

xbjvZr

She spoke to me! Good heavens, O Allah!

What luck; what a chance, O Allah!

She the alluring and her scented tresses

What alluring and absorbing ambiance

Stirring radiant charm of her loveliness

The wonder of her allure is relentless

Fearful disorder is streaming of tears

Peaceful flow of uncontrollable tears

Hardly any moments of night reunion

Countless desires, anxious for reunion

To be speechless and holdback words

Delight of seeing her need no words

……………………………….

vo mujh se hue ham-kalām allāh allāh

kahāñ maiñ kahāñ ye maqām allāh allāh

ye rū-e-daraḳhshāñ ye zulfoñ ke saa.e

ye hañgāma-e-sub.h-o-shām allāh allāh

ye jalvoñ kī tābāniyoñ kā tasalsul

ye zauq-e-nazar kā davām allāh allāh

vo sahmā huā āñsuoñ kā talātum

vo āb-e-ravāñ be-ḳhirām allāh allāh

shab-e-vasl kī sā.ateñ muḳhtasar sī

tamannāoñ kā izhdihām allāh allāh

vo zabt-e-suḳhan meñ laboñ kī ḳhamoshī

nazar kā vo lutf-e-kalām allāh allāh

19203123-english-teacher-sitting-at-the-table-and-smiling-to-the-camera

The Seasons come and the seasons go

But the Season of memories never goes

It has undying settled deep in my heart

I remember I read it somewhere in a book

When you see new faces reflect in old faces

Old memories move with new full of life faces

I believe you are also one of those lost faces

Memory of fine old days, rising as new face

It‘s closer to me now; fading memories!

You know the fine days we spent together

It makes me sad to think of departing you

So keep myself engaged just to forget you

I write poetry and lyrics to keep occupied

I restrain to read, write and lost in books

Thy recollections sting me more in loneliness

And thy remembrance liven up in loneliness

Fragrance of beautiful memories relish me

The fragrance engulfs the ambiance and me

And I continue my life’s journey swiftly ——–

…………………………………………………..

یاد کہانی
موسم آتے جاتے ہیں
مگر یاد کا موسم نہیں گزرتا
عین دِل کے اوپر کہیں ٹھہر جاتا ہے
میں نے کسی کتاب میں پڑھا تھا
جب پُرانی شکلیں نئی شکلوں میں نظر آنے لگیں
تو پرانی یادیں نئے جیون کے ساتھ سفر کرنے لگتی ہیں
مجھے لگتا ہے شاید تم بھی
ایسی ہی کسی یاد کا چہرہ ہوا
سانولی یاد کا
جو میرے قریب آگیا ہے
کہ پرانی یادیں مٹنے لگی ہیں
تم سے جدائی کا موسم مجھے اُداس کرنے لگا ہے
تمہیں معلوم ہے
تمہارے ساتھ بیتے دِن بھلانے کے لیے
میں خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کرتی ہوں
نظمیں لکھتی ہوں، شعر کہتی ہوں اور
کتابوں میں اپنا آپ گم کر لیتی ہوں
مگر دل پر ایسی تنہائی گزرتی ہے کہ
یاد کی اگر بتیاں آپ ہی آپ
سُلگ اٹھتی ہیں
جن کی خوشبو میرے چاروں اور پھیل جاتی ہے
دُور دُور تک
اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی
اِس دھیمی سی خوشبو کے ساتھ
سفر کرنے لگتی ہوں !!
نجمہ منصور


Enter your email address to follow this blog and receive notifications of new posts by email.

Join 870 other followers

Archives

Archives

June 2017
M T W T F S S
« May    
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930  

Shine On Award

Dragon’s Loyalty Award

Candle Lighter Award

Versatile Blogger Award

Awesome Blog Content Award

Inner Peace Award

Inner Peace Award

Inner Peace Award

Flag Counter

Flag Counter

It looks like the WordPress site URL is incorrectly configured. Please check it in your widget settings.

Bliss

blessings for all

Friend

Upcoming Events

No upcoming events