Just Bliss

Posts Tagged ‘Urdu

19225143_10154588267416932_8043357261204906411_n

کوئی غالباً30برس پہلے کی بات ہے ۔ میں ایک نجی اسکول میں پرنسپل کے عہدے پر کام کررہی تھی۔
ان دنوں امریکہ کے ویزے کی خبر بہت گر م تھی۔مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ حصول کا طریقہ کیا ہوتاہے ۔ ایدمنسٹریٹر صاحب اور اکاؤنٹنٹ بہت ذکر کرتے تھے ۔ایک دن میں نے بھی پوچھ لیا کہ آخر یہ ویزے کا چکر ہے کیا۔
دونوں نے مجھے کسی گنتی میں شمار نہ کرتے ہوئے بات بدل دی ۔ میں خاموش تو ہوگئی مگر ساتھ ہی شاکی اور دکھی بھی ۔ غریب ہیں تو کیا اسی دنیا کے باسی ہیں ۔ میں نے اِدھر اُدھر سے پتہ کیا تو معلوم ہوا لوگ ایک ایک ہفتے سے فرئیر ہال کے باغ میں اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں کہ کب موقع ملے اور وہ انٹرویو کے لئے اند رجاسکیں ۔
ہم نے بھی تصویر کھنچوائی،فارم بھرا اور صبح سویرے امریکن ایمبیسی پہنچ گئی۔ جب میری باری آئی تو پرس کی چیکنگ ہوئی۔ پرس میں سے لپ اسٹک ،چابیاں ،ٹافیاں ،ریز گاری نکل کر فرش پر پھیل گئیں ۔عملے نے غنیمت جانا کہ خود ہی اٹھا کر دے دیں که کچھ مزید نایاب اشیاء فرش پر نہ پھیل جائیں ۔ بہرحال ہم تلاشی کے بعد ایک بہت بڑے ہال میں پہنچے ۔ بیٹھنے کے بعد جو نظر اٹھائی تو ایک سے ایک اسمارٹ اسٹائلش خواتین تھیں جو باری کی منتظر اس یقین کے ساتھ بیٹھی تھیں کہ نہ صرف ویزہ ان کو مل جائے گا بلکہ شاید وہیں سے وہ ائرپورٹ جائیں گی اور سیدھی امریکہ کی زمین پر ہی قدم رنجہ فرمائیں گی ۔قیمتی زیورات ہیروں کی انگوٹھیاں یعنی بس کیا کہوں کچھ کہا نہیں جائے ۔حضرات کا عالم یہ تھاکہ قیمتی بریف کیس قیمتی لباس میں ملبوس ہم جیسے لوگوں کو نگاہِ غلط ڈال کر منہ پھیر لیتے ۔
ہال کے آخر میں تین کھڑکیاں تھیں جن میں 3افراد بیٹھے تھے جو انٹرویو کررہے تھے ۔اکثر خواتین وحضرات ڈھیروں ڈاکومنٹس اور ٹیڑھے منہ سے انگریزی بولنے کے باوجود ناکام آرہے تھے ۔
ہم نے کھڑکی کے پیچھے 3مختلف چہروں کو دیکھ کر دل میں سوچا کہ اے مالکِ دوجہاں تو کتنے چہروں اور شکلوں میں جلوہ گر ہے ۔مجھے کس شکل میں ملے گا! سوچ ہی رہی تھی کہ نام پکاراگیا۔نہ میرا کوئی بینک بیلنس تھا نہ جائیداد نہ قیمتی لباس نہ اسٹائل۔ بس یہ سوچتی ہوئی کھڑکی پر گئی کہ انسان کی کیا مجال اگر اللہ نے دینا ہے تو دے دے گا ورنہ ہم تو اپنے آپ میں خو ش ہیں ۔دوچار سوالوں کے بعد ہی کہا گیا کہ شام کو پاسپورٹ لے لینا۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ شام کو پاسپورٹ لینے میں کیا حکمت ہے ۔ بہت سے لوگوں کو اسی وقت مل گئے تھے ۔ خیر جی ،شام کو جو پاسپورٹ ملا تو اس میں ملٹی پل ویزہ لگا ہوا تھا جو رب کی مرضی۔
اسکو ل میں جب بتایا تو کوئی یقین نہ کرے کہ کیسے مل گیا! تو بھئی جو اس کی مرضی۔جانا تو تھا نہیں بس شوق اور چیلنج سمجھ کر کوشش کی اور حاصل کیا۔ یہ ضرور ہوا کہ لوگوں میں عزت سے دیکھنے جانے لگے کہ امریکہ کا ملٹپل ویزہ کے مالک تھے ۔ کافی برس گزرگئے اور کوئی خیال نہ آیا۔ مگر بھتیجے اکثر جب بھی فون کرتے توکہتے ایک دفعہ توآجائیں ۔ بیٹی کی شادی ہوچکی تھی، بیٹے کی بھی شادی ہوچکی تھی۔ چھوٹی بیٹی یونیورسٹی میں تھی۔ وہ جانتی تھی میں اس کی وجہ سے نہیں جاتی مگر خواہش بہت ہے ۔ لہذا اس نے ہمت دلائی کہ وہ اب بڑی اور سمجھ دار ہوگئی ہے میں اطمینان سے جاؤں۔
سو ہم نے ایک دفعہ پهر فارم بھرا۔ 1999 میں Fedex سے فارم اسلام آباد جاتے تھے ۔ تقریباً دس دن بعد انٹرویو کی تاریخ مل گئی۔ ہم اسلام آباد گئے ۔ اس دفع سوچا اسلام آباد میں انٹرویو ہے ، چلو ساڑھی پہن کر انٹرویو دیں گے ۔ رات کو تیار ی کرکے رکھ دی۔ صبح جب پہنا تو بلاؤز کی زپ ٹوٹ گئی ۔لوبھئ بهرم کا وہیں دم نکل گیا۔ رات کو جوکپڑے دهو کر لٹکائے تهے وہی الگنی سے اتار کر بغیر استری کے سلوٹوں والے پہن کر چلے گئے ۔ پیسہ جائیداد یا دستاویز تو کبھی همارے پاس ہوتی نہیں کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ اگر اللہ کو منظور هو تو ویزہ بغیر کسی حُجّت کے مل جائے گا۔ وہی ہوا۔۔ پانچ سال کا ملٹی پل ویزہ مل گیا۔ نہ سوال نہ جواب نہ حیرت نہ غیرت۔ اس دفعہ ہم واقعی امریکہ دیکھنے کیا اپنے بھتیجوں ،رشتہ داروں اور پیاری بھابھی سے ملنے چلے گئے ۔خرچہ بھی بھتیجے نے اٹھایا۔اللہ اسکو سب کے ساتھ سلامت رکھے ۔
\
پھر کچھ سال بعد دوبارہ شوق ہوا کہ چلو اس دفعہ بچوں کے ساتھ کوشش کرتے ہیں ۔ یقین کریں پانچ سال کا ملٹی پل ویزہ مل گیا مجھے اور بچو ں کو۔ مگر ایک ہفتے بعد ہی 9/11 کا واقعہ ہوگیا تو ہم نے کبھی نہ جانے کے ارادے سے توبہ کرلی ۔ جہاں اپنی عزت ہی نہیں تو کیوں جائیں ایسے ۔

میری ایک دوست نے کہا کہ تمہیں آرام سے ویزہ مل جاتا ہے اور مجھے کبھی نہیں ملتا۔میرے ساتھ چلو تمہیں بھی مل جائے گا اور مجھے بھی شاید مل جائے ۔ اس ملک میں اس کا شوہر گیا ہوا تھا نہ وہ آتا تھا اپنی کاروباری مصروفیت کی وجہ سے نہ اِس کو ویزہ ملتا تھا۔ خیر جی ہم بینک بیلنس شیٹ لے کر پہنچ گئے ۔ جب کھڑکی کے اس طرف بیٹھے ہوئے افسر نے میری بیلنس شیٹ دیکھی تو محو حیرت سے کبھی مجھے دیکھے کبھی شیٹ کو۔ آخر میں نے پوچھا: ’’کیا ہواآفیسر؟‘‘تو وہ بولا: ’’یہ بتاؤ،تمہار ی بیلنس شیٹ میں صرف= Rs1200/نظر آرہے ہیں ۔میں کیسے ویزہ دے سکتاہوں ؟‘‘پھر اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں ۔ٹیچر کی عزت ہر جگہ ہوتی ہے وہ بھی بہت مہذب لہجے میں بات کررہا تھا۔تھوڑی دیر بعدپھر اس نے کہاRs1200/=۔دیکھو یہ صرف Rs1200/=۔مجھے غصہ آگیا۔ میں نے کہا:’’آفیسر ،میری توہین نہیں کرو۔ تم نے بیلنس شیٹ مانگی تھی وہ دکھادی ۔میں بھی جانتی ہوں کہ کہیں بھی جانے کے لئے رقم درکار ہوتی ہے ۔میرے وسائل ہیں تو آئی ہو ں نا۔ ویزہ دیناہے تو ورنہ میری توہین نہیں کرو‘‘۔ معذرت کے بعد اگلے دن پھر بلایا۔میں پھر چلی گئی۔ میری دوست کو پہلے دن ہی انکار ہوگیا تھا۔ اگلے دن پھر اِدھر اُدھر کی باتیں کرتارہا۔۔ بولا:’’آج تک میں نے اتنا ٹائم کسی کو نہیں دیا یا ویزہ دے دیتاہوں یا انکار ہوجاتا ہے ۔اب تم بتاؤ میں کیا کروں !میری نوکری جائے گی اگر = Rs1200/پر ویزہ دیا‘‘۔ میں نے کہا،’’اچھا بتاؤ،میں کیا کروں ؟‘‘۔بولا :’’مجھے رقم لاکر دکھادو‘‘۔میں نے کہا:’’ٹھیک ہے ‘‘۔اگلے دن میرے رشتے دار ہیں ، وہ $4000 لے کر میرے ساتھ گئے ۔ دیکھ کر ہنسنے لگا۔بولا؛’’کہاں چھپا کر رکھے تھے؟‘‘
میں نے کہا ” یه تمهارا مسله نهیں هے که کہاں رکهے تهے ، تم نے کہا لا کر دکهاؤ تو دیکھ لو گِن بهی لو ”
پهر هنستے هوئے اس نے ویزہ دے دیا۔ مجھے تو جانا ہی نہیں تھا شوق پورا ہوگیا۔ کافی عرصے تک اس آفیسر سے ای میل پر رابطہ رہا۔ اچھا انسان تھا۔جہاں بھی ہو، خوش رہے ،آمین.
میں نے اپنی زندگی اس گانے جیسی گزاری هے –

~ میں زندگی کا ساتھ نبهاتا چلا گیا
هر فکر کو دهوئیں میں اڑاتا چلا گیا
بربادیوں کا سوگ منانا فضول تها
بربادیوں کا جشن مناتا چلا گیا
هر فکر کو دهوئیں میں اڑاتا چلا گیا
جو مل گیا اسی کو مقدر سمجھ لیا
جو کهو گیا میں اس کو بهلاتا چلا گیا
هر فکر کو دهوئیں میں اڑاتا چلا گیا
غم اور خوشی میں فرق نه محسوس هوں جہاں
میں دل کو اس مقام په لاتا چلا گیا
هر فکر کو دهوئیں میں اڑاتا چلا گیا

 

me in green

Hum aur hamari Urdu
Hamaray waledain ka ta’aulq tu UP se tha magr India se azadi k baad apnay watan Pakistan aai.    Lala Musa se Pindi, phir Karachi hote huwe bilakhir Peshawar mei sakoonat ikhtiyaar ki. Peshawar se dono ka khameer utha tha is leye mitti unko waha khench lai. Dono ki aakhri araam gah bhi Peshawar he me hay.
Peshawar cantt 62 Mall Road per hamaray gher k itraaf mai koi paas paros nahi tha. Is leye mohalladari kay mazay na le sakay. Na larai jhugra, na chughal khori na khuwahish na shikwa,na ehsaas e bertari na kamtari. Na fashion ka pata. Jo maa ne pehna diya pehen liya.  Ajeeb pursakoon mahol tha.  Hum umer bhai behen bhi nahi tha jis se kuch tu seekhnay ko milta. Baray bhai bhi 20 saal umer mei baray thay. Wo tu bus piyaar aur shafqat ka ghana shajr- e- saya daar thay. Iss tumheed ka matlab sirf yeh ha batanay ka kay in wajuhaat ki waja se hum per CP.UP, HAIDERABADI, BIHARI, PUNJABI HINDKO, BENGALI ka koi rung na churh saka.
Khidmat guzaron kay bacho ko Urdu aati nahi thi is leye un  se Pushtu bolni zaroor sekh li. Saat bhaiyun mei hamaray bhai zinda bachay they lehaza maa ki aankhon ka nor aur dil ka saroor they. Jub wo office kay kaam se kai dino k leye  doosray shehr jatay tu ammi fikrmund rehtein. Uska hul unhon ne aakhir nikal he liya. Hum us waqt class one mei thay.
 Ammi  bhai ko khut likhwana chahti thein. Ub bhala hum kiya jaanein khut (letter) likhna.  Jub koi lufz likhna na aata tu kehtein jo lufz nahi likhna wo kitaab me dhoondo. Is taraha hijjay bhi agai aur lufzon se bhi dosti honay lagi. Ammi ne is per bhi iktefa na kiya. Unhon ne hum masoom se Shama novel perhwana shru kiya. wo zamana aisa tha k bachon k pass sirf tabaydari kernay  kay aur koi option nahi hota tha. Novel tu kiya khaak samjh mei ata bus perhte aur ammi khush hotien k khut likhna aura acha ajaiga humko. Is tarah urdu perhnay mei rawani aati gai, sheen qaaf bhi durust hogaya. Bulund khuwanai aur thereer dono he behter hoti gaein.
Is mushaqqat ka faida yeh huwa k school aur college me maqami aur All Pakistan mubahison mei teachers ki nazar hum per pernay lagi. Hum bhi khush k chalo muft mei doosray shehron  mei ghoomany ka maza aai ga. Lerkon ko hum mei koi dilchaspi thi aur na humko. RCD debate yani Pakistan, Iran aur Afghanistan kay  ma-bain debate ka muqabla tha aur wo bhi Islamia college mei. Waha lerkiyan jatay huwe ghubrati thei ek tu purdah aur wese bhi haseen. Humko koi der tha nahi, na lerkon se na husn ki kami se. Rostrum hamseha hamaray qud se ooncha he hota ha her jagah is leye hum bedharak stage kay centre mei jaker apna mudda bayan kerte chay muwafiqut mei ho ya mukhalifat mei.
 Khoob inamaat, trophies aur certificates hasil keye.
Presentation Convent ki taliba honay ki waja  se English bhi qabu agai. Lehaza dono zabano mei khoob sadakari ki.
Shadi kay baad jahez mei hum bori bher ker apne cups bhi Jhelum le gai. Naya gher girahsti sambhali. Bawerchi khanay mei masalay rukhnay kay leye koi dabba bottle thi nahi. Hamaray urdali ne foren apni foji zihanut ka istemal kerte huwe bori se hamaray cup nikalay aur un mei namak mirch masalay bher deye. Pus ai momino is se sabit howa kay foji kay pass her maslay ka hul hota hay sirf dimagh istemal kerna shert ha. Bus yeh huwa k wo cups jo hum ne mehnat se jeetay thay unki betoqeery dekh ker apni betuqeeri dekh ker aankhon mei aansu aur labon pe muskarahat aanay k sath dil se hook uthi kay—- derd itna hay k her rug mei mehsher burpa—–sakoonitna ha k merjanay ko ji chata hay ———-Tanveer Rauf 23 November 2015

This time I decided to translate one piece of poetry from Shaista Mufti’s first book.

A door opens in village akin to fairies
On the way lies a blooming forest
Under the shade of pine trees

That path where Laila awaiting still
Mustard blossoms in the colorful milieu

Old birch tree is occupied by nymphs
Swings are void in cool alluring breeze

Mine and yours love story famed in the world
Have heard Heer Ranjha’s stories in myth ballet

The childhood that beam in heart in secret
May well abscond it in the secluded space

Here’s the original poetry:

اک دروازہ کھلتا ہے پریوں جیسے گاؤں میں
راہ میں مدھ بن پڑتا ہے اونچے چیڑ کی، چھاؤں میں

وہ پگڈنڈی جس پر لیلیٰ اب تک رستہ دیکھتی ہے
اب تک سرسوں پھول رہی ہےاُن رنگین فضاؤں میں

بوڑھے برگد پر اب تک آسیب بسیرا کرتا ہے
جھولے سونے سونے ہیں ساون کی مست فضاؤں

تیرے میرے دل کی کہانی دنیا میں مشہور رہی
رانجھا ہیر کے قصے سنتے آءے رقص کتھاؤں میں

وہ بچپن جو اب تک دل میں چھپ چھپ کر مسکا تا ہے
سوچتے ہیں چھوڑ آئیں ُاسکو دور دراز خلاؤں میں

I decided to translate one more beautiful poem ‘Mohabbat’ by Amjad Islam Amjad. Here’s the translation:

Tulips'n'Dew

Love like dew—–
Slakes thirst of a petal’s rim
Elevate colors in the sepal’s brim;
Hums, smiles glitters at dawn
Boondocks feel divine drawn,
When in love————-
Love———as dew!

Love like cloud—-
Showers over the heartland
Garden’s elfin spot swings n beam
Flora flings on ever barren land;
Love enlivens the hearts who
Are like lifeless grave seam.
Love like cloud———

Love like fire——-
When gleam in the dull hearts
Hearts enliven;
Heat of love has strange secret
The more it be ablaze,
Life’s essence enlivens;
Gather n scatter on the shore of hearts,
Love like surf,
Love like turf
Love like fire.

Love akin to dream—-
Descending in eyes like moon
Stars of desires shimmer akin to
State of restless heart can’t be identified.
On the tree of love, dream birds descend
The branches wake up;
When weary stars chat to the world
The candles light in the forlorn eyes
Love burns like water lamps.
Love akin to dream———

Love like pang——-
Exist like mark of bygone seasons
Exists like the grown isolation;
When wicks flicker on the eaves
Winds of hopelessness heaves
When no tap no rap is felt in the lane
When sense of someone is in vain
When shoulder shatter with heartache
It caresses, like a well-wisher;
Hovers in the space for long
Like the dust;
Love like pain.

محبت اوس کی صورت
پیاسی پنکھڑی کے ہونٹ کو سیراب کرتی ہے
گلوں کی آستینوں میں انوکھے رنگ بھرتی ہے
سحر کے جھٹپٹے میں گنگناتی، مسکراتی جگمگاتی ہے
محبت کے دنوں میں دشت بھی محسوس ہوتا ہے
کسی فردوس کی صورت
محبت اوس کی صورت
 
محبت ابر کی صورت
دلوں کی سر زمیں پہ گھر کے آتی ہے اور برستی ہے
چمن کا ذرہ زرہ جھومتا ہے مسکراتا ہے
ازل کی بے نمو مٹی میں سبزہ سر اُٹھاتا ہے
محبت اُن کو بھی آباد اور شاداب کرتی ہے
جو دل ہیں قبر کی صورت
محبت ابر کی صورت
 
محبت آگ کی صورت
بجھے سینوں میں جلتی ہے تودل بیدار ہوتے ہیں
محبت کی تپش میں کچھ عجب اسرار ہوتے ہیں
کہ جتنا یہ بھڑکتی ہے عروسِ جاں مہکتی ہے
دلوں کے ساحلوں پہ جمع ہوتی اور بکھرتی ہے
محبت جھاگ کی صورت
محبت آگ کی صورت
 
محبت خواب کی صورت
نگاہوں میں اُترتی ہے کسی مہتاب کی صورت
ستارے آرزو کے اس طرح سے جگمگاتے ہیں
کہ پہچانی نہیں جاتی دلِ بے تاب کی صورت
محبت کے شجر پرخواب کے پنچھی اُترتے ہیں
تو شاخیں جاگ اُٹھتی ہیں
تھکے ہارے ستارے جب زمیں سے بات کرتے ہیں
تو کب کی منتظر آنکھوں میں شمعیں جاگ اُٹھتی ہیں
محبت ان میں جلتی ہے چراغِ آب کی صورت
محبت خواب کی صورت
 
محبت درد کی صورت
گزشتہ موسموں کا استعارہ بن کے رہتی ہے
شبانِ ہجر میںروشن ستارہ بن کے رہتی ہے
منڈیروں پر چراغوں کی لوئیں جب تھرتھر اتی ہیں
نگر میں نا امیدی کی ہوئیں سنسناتی ہیں
گلی جب کوئی آہٹ کوئی سایہ نہیں رہتا
دکھے دل کے لئے جب کوئی دھوکا نہیں رہتا
غموں کے بوجھ سے جب ٹوٹنے لگتے ہیں شانے تو
یہ اُن پہ ہاتھ رکھتی ہے
کسی ہمدرد کی صورت
گزر جاتے ہیں سارے قافلے جب دل کی بستی سے
فضا میں تیرتی ہے دیر تک یہ
گرد کی صورت
محبت درد کی صورت

Here’s the original piece in Urdu:

Muhabbat Oss ki surat
Pyasi Pankhari kay hont ko sairab karti hay
Guloon kay Aasteno may anokhay rang bharti hay
Sahar kay Jhaptay may,Gungunati , Muskurati , Jagmagati hay
Muhabbat kay dino may dasht bhi mahsoos hota hay
Kisi Ferdos ki surat
Muhabbat Oss ki surat
Muhabbat abur ki surat

Dilo’n ki sarzamen pay gher kay ati or barasti hay
Chaman ka zara zara jhomta hay, Muskurata hay
Azal ki baynamo mitti may sabza sar uthata hay
Muhabbat unko bhi abad aur shadab karti hay
Jo dil hain qabar ki surat
Muhabbat abur ki Surat
Muhabbat Aag ki Surat!

Bujhay seeno may jalti hay tu dil baidar hoty hain
Muhabbat ki tapish mein kuch ajab israr hotay hain
Kay jitna bhi bharakti hay, Urosay Jaan Mahakti hay
Dilon kay sahilon par jama hoti aur bekharti hay
Muhabbat jhaag ki surat
Muhabbat, Aag ki surat
Muhabbat khuwab ki sorat
Neghao’n may utarti hay kisi mahtab ki surat
Setary Arzoo kay is tarha say jagmagaty hain
Kay pahchani nahi jati Dil e baytab ki surat!
Muhabbat kay shajar par khuwab kay panche utarty hain
Tu shakhain jaag uthti hain
Thakay haray setay jab zameen say baat karty hain
Tu kab ki Muntazir Ankhon may Shamain Jaag uthti hain
Muhabbat Un mein jalti hay Charagh E Aab ki surat
Muhabbat, Khuwab ki Surat!
Muhabbat dard ki surat

Guzishta mosomon ka istayarah ban kay rahti hay
Shaban E hijir mein, Roshin setara ban kay rahti hay
Munderon par charaghon ki loain jab thatharati hain
Nigar mein na umeedi ki hawain sunsunati hain
Gale mein jab koe ahat, koe saya nahi rahta
Dukhay dil kay lia jab koe bhi dhoka nahi rahta
Ghamon kay boojh say jab totnay lagtay hain shany tu
Ya in par hath rakhti hay
Kisi hamdard ki surat!
Guzar jati hain sary qaflay jab dil ki basti say
Fiza mein tayti hay dair tak
Ya gard ki surat,
Muhabbat,. Dard ki surat……

Image Credit: Mermaid in Bliss

Came across Amjad Islam Amjad’s beautiful poetry and decided to translate it so, that those of you who can’t read and understand Urdu could feel this beauty too. Enjoy 🙂

Suddenly it seems good, to be drawn in,
Go on to be in love again,
but when I glance flipside, 
 a long era has gone away.
How the dust of the long journey
 has laden on our feet and heads.
You and me;
 engulfed in   our own spheres of life,
 entangled in our own eddy.
Like the two stars    that seem
Closed to each other in wilderness.
 But are millions of miles apart in 
 river of loneliness. 
How to cross this river!
 Neither you are on the brim nor I,
So, it’s better to be gripped in
Our spheres.
Gleam and shine together
Like stars.
Own up the truth of distance and bygone time.
Neither you nor I,
Can cross the river of solitude.
Though it seems charming to be
Drawn in, to be in love again!
To be in love again!

                                                             Tanveer Rauf

بہت اچھا بھی لگتا ہے
اچانک اس طرح دل کا دوبارہ مبتلا ہونا،
محبت آشنا ہونا،
مگر جب دیکھتا ہوں
وقت کتنا جا چکا ہے
راستوں کی دھول
قدموں اور سروں پر کس طرح سے جم چکی ہے
اور ہم تم
اپنی اپنی زندگی کے دائروں میں
اپنی اپنی گردشوں میں
اس طرح الجھے ہوۓ ہیں
جس طرح دشت فلک میں ساتھ چلتے
دو ستارے
جو بظاہر پاس لگتے ہیں
مگر ان کی رفاقت میں
کروڑوں میل کی تنہائ کا دریا بھی ہوتا ہے
یہ دریا پار کیسے ہو
نہ تم ہو اس کنارے پر
نہ ہم ہیں اس کنارے پر

سو بہتر ہے
ہم اپنے اپنے دائروں کے اس خلا میں گھومتے جائیں
ستاروں کی طرح
اک ساتھ چمکیں اور دمکیں تو سہی لیکن
یہ اپنے بیچ میں جو فاصلوں کا سرخ دیا ہے
اسے ہی تسلیم کر لیں!
کہ اس بے پل کے دریا میں
نہ تم ہی تیر سکتے ہو، نہ ہم ہی تیر سکتے ہیں!
بہت اچھا تو لگتا ہے
اچانک اس طرح دل کی محبت آشنا ہونا
دربارہ مبتلا ہونا

Original version is as below:

bahot achha bhi lagta hae
achaanak is tra dil ka dobara mubtila hona
muhabbat aashna hona

magar jab dekhta hun
waqt kitna jaa chuka hae
raaston ki dhool
qadmon aur saron par kis tra se jam chukii haen

aur hum tum
apni apni zindagi ke dayaron mei
apni apni gardishon mei
is tarha uljhe huwen haen
jis tra dasht-e-falaq mei saath chalte
do sitarey
jo bazahir saath lagte haen
magar unki rafaqat mei
karoro’n miil ki tanhai ka dariya bhi hota hae

ye dariya paar kaese ho
na tum ho us kinare par
na hum haen iss kinare par

so behtar hae
hum apne apne dariyaon ke is khala mei ghumte jaayen
sitaron ki tarha
ik saath chamke aur damke to sahi lekin
ye apne beech mei faaslon ka jo surkh dariya hae

isse tasleem hi kar len
ke is be-pul ke dariya mei
na tum hi tair sakte ho
na hum hi tair sakte hain

bahot acha toh lagta hae
achaanak is tarha dil ka muhabbat aashna hona
dobara mubtila hona!!

~Amjad Islam Amjad~

 


Enter your email address to follow this blog and receive notifications of new posts by email.

Join 920 other followers

Archives

Archives

November 2019
M T W T F S S
« Sep    
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
252627282930  

Shine On Award

Dragon’s Loyalty Award

Candle Lighter Award

Versatile Blogger Award

Awesome Blog Content Award

Inner Peace Award

Inner Peace Award

Inner Peace Award

Flag Counter

Flag Counter

Bliss

blessings for all

Upcoming Events

No upcoming events