Just Bliss

075a2b6aa1d667653e636983a8592097

Our relation has spread all over in ambiance

He treated me chivalrously like I’m fragrance

How can I speak out that he has deserted me

It is but true! It’s disgraceful for pride and me

Whenever deserted and went away from me

What I regard as; he always came back to me

May you be over the moon and calm forever!

May you not undergo loneliness like me, ever!

When he put his hand on my searing forehead

I felt my soul in peace by his touch on forehead

Body aches even now in monsoon rain at night

The longing to stretch out self is more at night
…………………………………………………………

PERVEEN SHAKIR
kū-ba-kū phail ga.ī baat shanāsā.ī kī

us ne ḳhushbū kī tarah merī pazīrā.ī kī

kaise kah duuñ ki mujhe chhoḌ diyā hai us ne

baat to sach hai magar baat hai rusvā.ī kī

vo kahīñ bhī gayā lauTā to mire paas aayā

bas yahī baat hai achchhī mire harjā.ī kī

terā pahlū tire dil kī tarah ābād rahe

tujh pe guzre na qayāmat shab-e-tanhā.ī kī

us ne jaltī huī peshānī pe jab haath rakhā

ruuh tak aa ga.ī tāsīr masīhā.ī kī

ab bhī barsāt kī rātoñ meñ badan TūTtā hai

jaag uThtī haiñ ajab ḳhvāhisheñ añgḌā.ī kī

 

WHICH SKY DOES GOD LIVE!
Often in news papers
When I see the blood tinges dancing in words
Early in the morning——-can’t resist to ponder
Which sky does God Live?
I ask myself
I ask everyone
A deep silence
Mocks me
But today——
Seeing so many flowers laid in coffins
I realized dripping of blood’s worth —–
Blossoming roses and their dearth
A nightingale’s melancholy chant
A cuckoo’s disheartening chant
I realized then———
Which sky the God lives
Now I don’t ask any one
Which sky does God live

خدا کون سے آسماں پر رہتا ہے!
 
اکثر اخبار میں
صبح سویرے لفظوں کے اندر
چھم چھم ناچتی خون کی بوندیں دیکھ کر
میں سوچ میں پڑ جاتی!
خدا کون سے آسمان پر رہتا ہے
خود سے پوچھتی
سب سے پوچھتی
جواب میں ایک گھنی چُپ
میرا منہ چڑاتی
مگر آج اتنے سارے پھولوں کے جنازے دیکھے تو
میں نے
قطرہ قطرہ ٹپکتے خون کی حقیقت
تازہ گلاب کی حسرت
چڑیا کی اُداسی اور
کوئل کی ہوک میں چھپی درد بُنتی داستاں کو
جان لیا
بس اُس دن سے
میں کسی سے نہیں پوچھتی کہ
خدا کون سے آسماں پر رہتا ہے!
 
(سانحہ پشاور کی یاد میں)

 

 

0

What do I have except attire of dust on me!

Nothing left except ashes of fiery urn in me!

The city of the thin minded ignorant people

Prostrate with no awareness; ignorant people

All dome and minaret and pulpit and arches

Nothing but under religious chiefs’ rein, are

All uncovered heads, believe out of ignorance

They’re in fallacy being sheltered below heavens

Their entire life’s success is blessings of Almighty

Is but living in ecstasy! No approval of Almighty

My belief to know myself and the world around

Is but sham, ignorance and mistake all abound

My concern and worry about the world around

Is nothing but to be notable eminent around!

Himayut Ali Shayar
………….

badan pe pairahan-e-ḳhāk ke sivā kyā hai

mire alaav meñ ab raakh ke sivā kyā hai

ye shahr-e-sajda-guzārāñ dayār-e-kam-nazarāñ

yatīm-ḳhāna-e-idrāk ke sivā kyā hai

tamām gumbad-o-mīnār-o-mimbar-o-mehrāb

faqīh-e-shahr kī imlāk ke sivā kyā hai

khule saroñ kā muqaddar ba-e-faiz-e-jahl-e-ḳhirad

fareb-e-sāya-e-aflāk ke sivā kyā hai

tamām umr kā hāsil ba-fazl-e-rabb-e-karīm

mata-e-dīda-e-namnāk ke sivā kyā hai

ye merā da.avā-e-ḳhud-bīnī-o-jahāñ-bīnī

mirī jihālat-e-saffāk ke sivā kyā hai

jahān-e-fikr-o-amal meñ ye merā zom-e-vajūd

faqat numā.ish-e-poshāk ke sivā kyā hai

victorian-couple-parting-lee-avison

Couldn’t tell my upsetting feelings to her

So badly ruined; couldn’t clarify to her

Forgot to deem the lot in ardor and love

What I failed to ignore is her zeal and love

My tears failed to drench the fire of love

Couldn’t lessen fire she lighted, of her love

Whoever sees her loveliness and brilliance?

Fails to spoil her virtue, beauty and brilliance

How can wind blow my dust of her doorstep?

When she failed to let me go of her doorstep
………….

dāstān-e-ġham-e-dil un ko sunā.ī na ga.ī

baat bigḌī thī kuchh aisī ki banā.ī na ga.ī

sab ko ham bhuul ga.e josh-e-junūñ meñ lekin

ik tirī yaad thī aisī jo bhulā.ī na ga.ī

ishq par kuchh na chalā dīda-e-tar kā qaabū

us ne jo aag lagā dī vo bujhā.ī na ga.ī

paḌ gayā husn-e-ruḳh-e-yār kā partav jis par

ḳhaak meñ mil ke bhī is dil kī safā.ī na ga.ī

kyā uThā.egī sabā ḳhaak mirī us dar se

ye qayāmat to ḳhud un se bhī uThā.ī na ga.ī

19959235_928575377280452_5589781073918066667_n

Rise up, and go about
The Pole of our salvation,
As winds the pilgrim rout
By Mecca’s holy station.

Why art thou slumber bound,
Like clay the earth caressing?
In movement shall be found
The key to every blessing.

Rumi.

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

19748543_877899299039067_2429293528387361267_n

The spirit is restive everywhere around

Heart doesn’t agree to anything around

Man feels more alone some in a crowd

When there’s much hustle bustle around

My fortunate star keeps wavering around

  Must be shining somewhere else abound

The secret I had kept veiled until now

Is now open and gossiped in town now

                                            ………………………………………………………………………

 

dil kahīñ bhī nahīñ lagtā hogā

dil nahīñ māntā aisā hogā

jitnā hañgāma ziyāda hogā

aadmī utnā hī tanhā hogā

chaltā-phirtā hai sitāra merā

ab kahīñ aur chamaktā hogā

maiñ ne ik baat chhupā rakkhī hai

ab usī baat kā charchā hogā

19732363_10154648012191932_8013759115126708428_n

 

هم بنے انویجیلیٹر :

میری
کزن نصرت ایک کالج میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رهی تھیں۔ وه اکثر کالج سے واپسی پر همارے گهر آجاتیں تهیں کیونکہ ہماری بہت دوستی تھی اور بچپن سے قلبی لگاؤ بهی تها ایک دن وه کالج سے واپسی پر آئیں تو بہت سنجیدگی سے بولیں کہ ان کے کالج میں سینٹر پڑا ہےاگر تم چاهو تو انویجیلیٹ کر سکتی هو گهر سے زیاده دور بهی نهیں هے اور کچھ پیسے بهی مل جائیں گے جتنے دن جاؤ گی ، میں نے خوشی خوشی حامی بهر لی. مقرّره دن میں کالج گئی اور وهاں مجهے ایک کلاس میں بهیج دیا گیا. وهاں کی منتظم ٹیچر نے مجھ سے بہت رعب سے کہا که دیکهیں کوئی لڑکی نقل نه کرے. آپ کو بہت ﺫمّه داری سے چیک کرنا هے ، یه کام آسان نهیں هے . آپ کو کلاس میں راؤنڈ لیتے رِهنا هوگا. جن آنکهوں سے وه همیں گهور کر دیکھ رهیں تهیں ان پر اپنا پهسلتا ہوا چشمه ٹکا کر کَهٹ کَهٹ کرتی چلی گئیں. ان کے جانے کے بعد هم نے بهی اسی رعب سے لڑکیوں سے مخاطب هو کر کہا که جو بهی اپنے ساتھ نقل کے لیئے پهرّے لائیں هیں وه خود لا کر میری میز پر رکھ دے کیونکه مجهے کسی کی تلاشی لینا پسند نهیں هے.
اکثر نے تمیز سے اپنے پھرّے میز پر لاکر رکھ دئیے۔ یہ تو مجھے معلوم تھا کہ اگر دو پرچیاں میز پر رکھی ہیں تو چار ان کے پاس ہوں گی لیکن بھروسہ بھی کوئی چیز ہے ۔میں نے کسی کی تلاشی نہیں لی ۔ سب اپنا پرچہ حل کرنے میں مصروف تھیں ۔ میں کلاس میں چکر لگا رہی تھی اور ہر دفعہ ایک لڑکی کو دیکھتی کہ وہ میز پر سر ٹکائے ہوئے پرچہ حل کر رہی ہے ۔میں ہردفعہ اسے کہتی بیٹا آنکھوں پر برا اثر پڑے گا ، سر اٹھا کر لکھو۔میرے کہنے سے وہ سر اٹھا لیتی مگر پھر جب میر ی نظر پڑتی تو وہ اسی طرح سر ٹکائے ہوئے ہوتی ۔ آخر مجھ سے رہا نہ گیا اور اس کے پاس جا کر وجہ پوچھی تو اس نے بتایا ، گھر کی ساری ذمّہ دار ی اس پر ہے ۔ رات بھر جاگ کر پڑھا صبح بھی پیپر تھا جو رہ گیا تھا اور دوپہر میں بھی ۔ ناشتہ کا میں نے پوچھا تو بولی ،نہیں کِیا۔ سر میں اتنا شدید درد ہے کہ سر اٹھایا نہیں جارہا ۔میں سن کر اپنی سیٹ پر آگئی پھر پانی والے کو پیسے دیئے کہ ایک فائنٹا اور بسکٹ کا پیکٹ لا دے ۔ میں نے اس لڑکی کو فائنٹا اور بسکٹ دئیے کہ پیپر چھوڑو پہلے یہ کھاؤ۔ کھانے کے بعد اس نے تھوڑی دیر بعد سر اٹھا کر پیپر دیا۔ پیپر ختم ہونے کے بعد اس نے مجھے پیسے دیئے تو میں نے اس کو بتایا نہ تو میری یہاں کینٹین چلتی ہے نہ فائنٹا والوں سے میں نے ٹھیکہ لیا ہے ۔ تم میری بیٹی جیسی ہو۔ جاؤ اور ناشتہ ضرور کرکے آیا کرو تاکہ سر میں درد نہ ہو اور پیپر بھی آرام سے کر لو۔ اگلے دن پھر میں مقرّرہ وقت پر کالج پہنچ گئی۔ جب لڑکیاں کلاس میں اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئیں تو ایک نہایت سخت قسم کی ٹیچر اس طرح کمرے میں داخل ہوئیں جیسے دشمن کی فوج کو للکارنے آئی ہیں ۔ گرجدار آواز میں دھماکہ کیا کہ : لڑکیو!جو جو پھرّے لائی ہو فوراً میز پر رکھ دو ورنہ میں نے تلاشی لی اور اگر کچھ نکلا تو۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے ان کا لب ولہجہ ایسا ہی تھا جیسے واقعی گولیوں سے بھون ڈالیں گی ۔ ان کا سراپا اور پهر اس کرخت لہجے سے خوف زدہ ہوکر کافی لڑکیوں نے پڑھنے میں کم اور پهرّے بنانے میں جو محنت کی تھی وہ لاکر دشمن کے سامنے اپنے ہتھیار جمع کرادئیے۔ وہ مجھے بھی گھور کر گویا ہوئیں کہ دیکھیئے کوئی لڑکی نقل نہ کرے اور اگر ایسا ہوا تو آ پ کی بھی سرزنش ہوگی ۔ میں نے انتہائی انکساری سے ان کی تائید کی ۔ یہ کہہ کر وہ اونچی ایڑی کی سینڈل سے کَھٹ کَهٹ کرتی چلی گئیں۔ دور تک ان کی کَھٹ کَھٹ سنائی دیتی رہی ۔ لڑکیوں نے اور میں نے گہرا سکون کا سانس لیا۔مجھے تو امتحانوں میں بچوں پر بہت پیار آتا ہے اور میں اپنے شاگردوں پر اتنا بھروسہ کرتی تھی کہ کہتی کہ دیکھو مجھے آپ پر یقین ہے کہ اگر کتاب کھلی بھی ہوگی تو میں جانتی ہوں آپ نقل نہیں کریں گے ۔ محنت کر کے فیل ہوجانا بری بات نہیں ہے جتنا نقل کر کے اچھی پوزیشن لے لینا اور میں کلاس سے باہر چلی جاتی تھی کہ بچے یہ نہ سمجھیں کہ صرف باتیں کرتی ہیں اور جب اچانک کلاس میں آتی تھی تو روحانی خوشی ہوتی کہ سب بچے اپنے پیپر میں مصروف ہوتے ۔ مجھے کسی بچے نے شرمندہ کیا نہ مایوس ۔ میں بہت خوش نصیب ہوں .. یه کہاں سے کہاں آگئے ہم بات کرتے کرتے ۔
بات ہورہی تھی دوسرے دن کی ، لڑکیوں پر نظر رکھنے کی ۔ اس دن اسلامیات کا پرچہ تھا۔ میں نے لڑکیوں سے کہا کہ دیکھو آج زیادہ کڑا امتحان اس لئے بھی ہے کہ اسلامیات کا پرچہ ہے نقل کرنا ویسے بھی غلط ہے اور آج تو ایمان کا بھی امتحان ہے ۔ اسلئے جہاں سمجھ نہ آئے تو مجھ سے پوچھ لینا مگر نقل نہ کرنا۔ سر میں درد والی لڑکی بھی موجود تھی مگر ہشاش بشاش تھی۔ میں جانتی ہوں متوسط گھرانوں کی لڑکیوں پر گھر داری کا بھی بہت بوجھ ہوتا ہے ۔ نہ ٹیوشن پڑھ سکتی ہیں نہ کوئی سمجھانے والا ہوتا ہے ۔اس لئے پھرّے بناتی ہیں۔ وقت اور توانائی ضائع کرتی ہیں ۔ میں ہاتھ دیکھ کر پہچان لیتی ہوں کہ کتنے محنت کش ہیں اس لئے بہت ہمدرد ی رکھتی ہوں اور یہی ہوا۔ معروضی پرچے میں بہت سی لڑکیوں نے مد د کے لئے ہاتھ اٹھایا تو میں نے بجائے ایک ایک کو بتانے کے پوری کلاس کو “خالی جگه ” ( Fill in the blanks) ڈکٹیٹ کروا دیئےاور یوں کلاس کا ایمان سلامت رہا ، جہاں تک همارے ایمان کی بات هے تو اللّٰه تو سب کی نیّتوں اور دلوں کے بهید تک سے واقف هے، بس اللّٰه پاک سے معافی کے طلبگار هیں بے شک اللّٰه تعالٰی عفوودرگزر کرنے والا هے .

جب اگلے دن نصرت کو بتایا توانہوں نے کہا بس کردو بس! تم مجهے کالج سے نکلواؤ گی خبردار جو اب تم گئیں کالج ۔ گھر بیٹھو اور بچے پالو ۔کسی کام کی نهیں هو تم ، هم نے کونسا برا مانا کیونکه کہہ تو وه ٹهیک هی رهیں تهیں. بہرحال دودن کے جو پیسے ملے تھے ان سے خوب موج اڑائی دونوں نے مل کر.

Enter your email address to follow this blog and receive notifications of new posts by email.

Join 886 other followers

Archives

Archives

August 2017
M T W T F S S
« Jul    
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
28293031  

Shine On Award

Dragon’s Loyalty Award

Candle Lighter Award

Versatile Blogger Award

Awesome Blog Content Award

Inner Peace Award

Inner Peace Award

Inner Peace Award

Flag Counter

Flag Counter

It looks like the WordPress site URL is incorrectly configured. Please check it in your widget settings.

Bliss

blessings for all

Upcoming Events

No upcoming events