جائے رفتن نہ پائے ماندن

لو جی دوستوں ہم ایک عدد صاحب سمارٹ فون ہو ہی گئے۔یقین جانیے بچنے کی بہت

کوشش کی کیوں کہ ہر گھر میں ہر ایک کے ہاتھ میں انگلیاں چلاتے دیکھا تھا مگر گھر
میں سناٹا اور ایک ہو کا عالم سب نے کہا کہ آپ بھی ایک عدد سمارٹ فون لے لیں بہت
نہ نہ کی مگر ہاں کر بیٹھے – اس سال 67ویں یوم پیدائش کی سالگرہ کے موقع پر ہماری چھوٹی بیٹی نے ایک عدد سمارٹ فون ہمٰیں تحفے میں دے دیا- دیکھنے میں بہت خوبصورت- جب اس کو تیار کرکے ہمیں استعمال کرنے کے لیا دیا تو سب کی دیکھا دیکھی ہم نے اسکی اسکرین پر زور زور سے انگلی ادھر ادھر گھمانی شروع کی تو سب تو مسکرا رہے تھے مگر ہمارے نواسے نے کہا یہ ٹچ موبائل ہے ٹھوک موبائل نہیں آپ تو اس کو دشمن کی طرح ٹھوک ٹھوک کر توڑ دیں گی-جب سمجھ میں آیا تو بعد میں اسکی اسکرین چالو ہوگئ- میں سمجھی میں نے وقعی ٹھوک دیا-پتا چلا ہر تھوڑی دیر بعد یہ نقاب ڈال لیتا ہے-میں نے کہا مجھے نہیں چاہیے اور اٹھا کر پھینک دیا-سب خوب مگر محضوض ہوئے پھر سمجھایا کہ کچھ دن میں آپ عادی ہوجائیں گی استعمال تو کریں-بیٹے نے سالگرہ کی مبارکباد اور دعائیں بھیجیں تو میں نے جواب میں لکھا same to youمگر اسکے پاس پہنچا تو لکھا تھا shame to youوہ تو بیٹا تھا سمجھ گیا ابھی میں اس کے چھوٹے سے کی پیڈ کی عادی نہیں ہوئ ہوں اور ابھی سیکھ رہی ہوں ورنہ ابھی کوئ اور غیر ہوتا تو نہ جانے ڈنکے کی چوٹ پہ کیا بھیجتا – اسے صاحب یہ تو ایسا بدتمیز نہ ہنجار بچے کی طرح ثابت ہوا کہ نہ چین لینے دیتا ہے نہ سکھ کا سانس ہر وقت بھوکے ندیدے بچے کی طرح ٹھن ٹھناتا ہے نہ دین کا چھوڑا اس نے نہ دنیا کا- وضو شروع کرتے ہی اسکی ٹھن ٹھن ابھی آنکھوں میں صابن چلا گیا ہوتو اس پر پانی ڈالیں پہلے یا اسکو چپ کرائیں-جلدی جلدی وضو کرکے آئو تو یہ مردے کی طرح بے جان اور بے آواز پڑارہتا ہے-سوچتے ہیں چلو ٹھیک ہے نماز کے بعد دیکھ لیں گے کہ کس کا پیغام ہے مگر جیسے ہی نیت باندھو ویسے ہی اسکی ٹن ٹن شروع ہوجاتی ہے- اب نماز میں کیا خاک دل لگے گا – پتا ہی نہیں چلتا کہ کتنی رکعتیں پڑھ لیں کتنے سجدے کمتی بڑھتی ہوگئے-شکر دامن گیر کے پتا نہیں روشی کے بچہ ہونے والا تھا نارمل ہوا کہ آپریشن سے- شاہد صاحب کا سیکریٹری سے چکر چل رہا تھا ان کی بیگم کا کوئ پیغام ہوگا،ابرار کا نتیجہ آنے والا تھا فیل ہوگیا ہوگا- اسک چچی نے میسج کیا ہوگا-نماز میں سجود رکوع تو خود کار مشین کی طرح ہو رہے ہوتے ہیں بس دل اس ٹچ موبائل میں لگا رہتا ہے – بند کرکے رکھ دو تو پھر بھی فکر دامن گیر رہتی ہے کہ پتا نہیں ماموں ہسپتال میں ہیں کہیں اللہ کو پیارے نہ ہوگئے ہوں- دل تو پاگل ہے دل تو بچہ ہے-بس اس ٹچ موبائل سے ایسی دل بستگی ہوگئ ہے کہ سنسنی خیز خبریں ہوں جنسی اسکینڈلز کی تصویریں خبریں، ایٹی بائوٹک کے مضر اثرات جھٹ پٹ ٹوٹکے کیسی ہی بیماری ہو بس لہسن کھائو بھی لگائو بھی سونگھو بھی سب عارضے فٹافٹ ٹھیک – جراثیم مکھی،مچھر سب door رہنے پر مجبور- اب تو ڈاکٹروں کی چنداں ضرورت نہیں رہی-وہ بچارے اب ٹھیلے پر آواز لگاتے پھریں گے کہ ٹیکہ لگوالو پٹی بندھوالو، آپریشن کروالو، دل گردے پھیپڑے بدلوالو- ای طرح گوگل نقشہ سب بتا دیتا ہے کہ مجرم کہاں ہے کتنے فاصلے پر ہے- اس کی وجہ سے اب پولیس کا محکمہ بھی بند کرنا پڑے گا – وہ بچارے معصوم شریف لوگ کہاں اور کیسے مجرموں کو ڈھونڈ سکتے ہیں – سڑکیں شکستہ گاڑیاں ناکارہ، بہتر ہے گھر بیٹھ کر اس ٹچ موبائل سے کام لیں- وٹس ایپ کا شکریہ جس کی وجہ سے بغیر نماز پڑھے ، بغیر حقوق العباد ادا کئے صرف پوسٹنگ آگے بڑھانے سے کروڑوں ثواب کمالیے- ان سب کا شکریہ جنہوں نے اسلام کو ایک کلک سے آسان بنادیا-ان جانوروں سبزیوں کا بھی شکریہ جن ر کلمہ اور اللہ تعالی کے نام معجزاتی طور پر لکھے دکھا کر ایمان تازہ کیا جاتاہے – ورنہ پورا قرآن پڑھ کر اور سیرت نبوی پڑھ کر متاثر ہونا پڑتا- بس اب مرنے کی دیر ہے- وٹس ایپ میں میرے لیے جنت میں دودھ کی نہریں اور محلوں کا انتظام تو کر رکھا ہے- بس یہ ہیں اسکی جادوگری اوراسکے طلسمات کہ انسان کو اس نے ایسا قابو کیا ہے کہ اس کو کسی کا نہیں رکھا- فرشتے بھی آسمان پہ جاتے ہوئے سوچتے ہونگے بلکہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہونگے یار ایک سو پچھتر ویں میسج میں کیا خبر تھی کیا اندیشہ تھا چلو آسمان پہ جاکے دیکھیں گے کوئ چیز بھول تو نہیں گئے وہاں تو اتنے میسجز دھڑا دھڑ آتے ہیں کہ پتا نہیں چلو خیر چلتے ہیں آسمان پہ جاکر دیکھیں گے- تو ہ ہے جناب ہمارے ٹچ موبائل کی کہانی ہماری زبانی-