Just Bliss

Madina ki roti

Posted on: January 25, 2018


مدینے کی روٹیImage result for images of roti
دسمبر کے آخری عشرے میں سفر حجاز کا مبارک سفر کیا۔ کیا رحمت! کیابرکت! کیا سماں!، کیا رونق! کیا محبت! کیا معجزے! اللہ ! اللہ – کیا میں! کیا میری بساط! اور کیا اللہ پاک کی کرم نوازیاں، سبحان اللہ- وہاں جاکر اس قدر خوشی ہوئ یہ دیکھ کرکہ اللہ پاک کی محبت میں کس قدر لوگ جوق در جوق لبیک اللہھم لبیک کا ورد کرتے چلے آرہے ہیں- اسی طرح Ummati رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں ہر علاقے، ہر مسلک، ہر قوم ، ہر زبان، ہر حیشیت، ہر فقہ کے لوگ بھنورں کی طرح پروانہ وار چلے آتے ہیں اور من کی مرادیں پارہے ہیں- نہ موسم کی فکر، نہ جگہ کی، نہ امیری، نہ اسیری، نہ غریبی، نہ مجبوری، نہ معذوری کوئ چیز رکاوٹ نہیں- یہ سب تو وہاں جاکر سبھی محسوس کرتے ہیں اور دل تشکر اور آنکھیں عقیدت سے فرش راہ ہوتی ہیں- مگر میں یہ دیکھ کر بہت روحانی خوشی محسوس کرتی تھی کہ اس قدر لوگ ہیں اور سب باوضو، لاکھوں فرزندان توحید پاک صاف اور باوضو ، چپہ چپہ پاک، ہر نفس پاک، ہر سانس پاک کیا یہ معجزہ نہیں- دونوں جگہ مکہ اور مدینہ میں روح سرشار رہتی- -بس جس چیز نے دل ہلا دیا وہ ہے روٹی کی ناقدری- سالن کے ساتھ روٹیاں مفت- روٹی بھی سائز میں اچھی خاصی بڑی، کوئ غریب روٹی لینے والا نہیں ملتا- سب کو پیسا چاہیے- پیسا مانگنے کے لیے ہر ملک سے گروہ کی شکل میں نظر آتے ہیں- مگر روٹیوں کو کچرے میں ڈالتے دیکھ کر روح کانپ جاتی تھی- روٹی کے چکر میں تو سارا جہاں کاروبار چلا رہا ہے اور ایسی جگہ روٹی اور رزق کی یہ بے حرمتی افسوس!
میں اس سفر میں کھانے کی بچی ہوئ دو روٹیاں تبرک کے طور پر ساتھ لے آئ ہوں- تھوڑی تھوڑی کرکے کبھی دودھ میں بھگو کر کبھی سالن میں کھاتی ہوں- مجھسے برداشت نہیں ہوا کہ رزق کو ضائع کردیا جائے- حکومت زائرین کی سہولت اور آسائش کے لیے ہر سامان مہیا کرتی ہے جو قابل تحسین ہے- مگر روٹی بھی اگر قیمتا” ملے شاید ضیاع میں کچھ کمی ہو جائے- اے رب العزت، اے قادر مطلق ہمیں معاف کردے آمین! کچھ چیزیں ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں ، مگر شاید یہ میرے دل کی تکلیف دہ آواز ہے یہ کسی کے دل میں اتر جائے- اور اسکا کوئ سد باب ہو کے روٹی کی اس قدر بے حرمتی نہ ہو- ویاں اللہ کے گھر میں ٹنوں کے حساب سے روٹی ضائع ہوتی ہے کوئ لینے والا نہیں ہوتا-
ہم نے کئ لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی تو ایک بہت تکیف دہ جملہ سننے کو ملا وہ یہ تھا کہ پاکستانیوں کی فطرت نہیں بدل سکتی کہ وہ اپنا بچا ہوا ضرور دوسروں کو دیتے ہیں- حالانکہ ایسی بات نہیں تھی کہ بچا ہوا لوگوں کو دیتے تھے- بعض دفعہ دو، تین چیزیں آگئیں اور ایک چیز ہم نے چھوئ بھی نہیں’ پیک ہے، وہ بھی اگر دیتے ہیں تو کوئ لینے کو تیار نہیں ہوتا- تو یہ پاکستانی بلکہ میں تو اس بات پر بہت فخر کرونگی –کیونکہ پاکستانی ہونے کے ناطے ہم اپنے ساتھ لوگوں کو شامل کرنا چاہتے ہیں، ساتھ کھلانا چاہتے ہیں- ساتھ کھلانے سے برکت ہوتی ہے- اور ہم نہ اپنے آپ کو کمتر محسوس کرتے ہیں بلکہ ہمیں تو بہت فخر ہوتا ہے کہ ہمیں کوئ بلائے اور اپنے ساتھ کرے تو وہ آدھی روٹی بھی ہمارے لیے بہت قابل عزت اور قابل فخر بات ہوگی کہ اللہ پاک نے ہمیں کہاں کہاں سے عطا کیا ہے-

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Enter your email address to follow this blog and receive notifications of new posts by email.

Join 919 other followers

Archives

Archives

January 2018
M T W T F S S
« Dec   Feb »
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031  

Shine On Award

Dragon’s Loyalty Award

Candle Lighter Award

Versatile Blogger Award

Awesome Blog Content Award

Inner Peace Award

Inner Peace Award

Inner Peace Award

Flag Counter

Flag Counter

Bliss

blessings for all

Upcoming Events

No upcoming events

%d bloggers like this: